Blog
پولیس کےاختیارات صوبائی حکومت کو دینے کی تیاری خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کا نیا مسودہ تیارکرلیا گیا

پشاور(محمد فہیم) خیبر پختونخوا حکومت نے پولیس خودمختاری محدود کرنے اور انتظامی اور پالیسی سازی کے اختیارات میں بڑی تبدیلی کے لیے خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کا نیا مسودہ تیار کر لیا ہے، جسے ہفتہ کے روز کابینہ اجلاس میں پیش کردیا گیا۔مجوزہ قانون میں پولیس کے موجودہ خودمختار نظام میں تبدیلی اور اہم اختیارات صوبائی حکومت کو واپس منتقل کرنے کی تجاویز شامل کی گئی ہیں، مجوزہ قانون کے تحت آئی جی پولیس کے اختیارات محدود جبکہ پولیس افسران کی تعیناتی، تبادلوں، کارکردگی کی نگرانی اور محکمہ پولیس کے عمومی انتظامی معاملات میں صوبائی حکومت کا کردار بڑھ جائے گا۔مسودے کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس کی تعیناتی کے لیے وفاقی حکومت تین افسران پر مشتمل پینل صوبائی حکومت کو بھجوائے گی جس میں عدم اتفاق کی صورت میں صوبائی حکومت نیا پینل طلب کر سکے گی۔ اسی طرح آئی جی کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہونے کی صورت میں قبل از وقت تبادلے یا انہیں وفاق واپس بھیجنے کے لیے کارروائی شروع کرنے کا اختیار بھی صوبائی حکومت کو حاصل ہوگا۔نئے مسودے میں پولیس کے اعلیٰ افسران کی پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی تجویز کی گئی ہے۔ اہم پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلے داخلی پولیس بورڈز کے بجائے صوبائی حکومت کے رولز آف بزنس 1985 کے تحت کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس سے پولیس افسران کے انتظامی معاملات میں صوبائی حکومت کا براہ راست کردار بڑھ جائے گا۔پولیس کی نگرانی اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے پبلک سیفٹی کمیشنز کے نظام میں بھی تبدیلی تجویز کی گئی ہے، مسودے کے مطابق صوبائی، کیپٹل سٹی اور ضلعی پبلک سیفٹی کمیشنز کی سربراہی سپیکر صوبائی اسمبلی کی جانب سے نامزد رکن صوبائی اسمبلی کرے گا۔ مذکورہ کمیشنز پولیس کی کارکردگی، عوامی شکایات اور پولیس کی جانب سے مبینہ زیادتیوں سمیت مختلف معاملات کی نگرانی کریں گے۔مسودے میں پولیس افسران کے خلاف شکایات کے ازالے کے لیے ریجنل پولیس کمپلینٹ اتھارٹیز کے قیام کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ ان اتھارٹیز کے ذریعے ایس پی رینک تک کے پولیس افسران کے خلاف تشدد، بدعنوانی اور دیگر شکایات کی تحقیقات کی جا سکیں گی۔دوسری جانب پولیس کے آپریشنز اور تفتیشی امور کو الگ رکھنے کی تجویز دیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں صوبائی انویسٹی گیشن اور کرائمز برانچز کو مزید بااختیار بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ مجوزہ پولیس ایکٹ میں جلسے، جلوسوں اور عوامی اجتماعات کے حوالے سے بھی اہم تبدیلی کی گئی ہے۔مسودے کی دفعہ 83 کے تحت عمومی شاہراہوں پر جلسہ، جلوس یا اجتماع منعقد کرنے کے لیے پولیس کے بجائے ڈپٹی کمشنر سے بحیثیت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پیشگی این او سی حاصل کرنا لازمی ہوگا۔پولیس میں بھرتیوں کے حوالے سے مسودے میں تجویز دی گئی ہے کہ کانسٹیبل کی تمام بھرتیاں ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایویلیوایشن ایجنسی کے ذریعے کی جائیں گی۔ ڈی ایس پی کی آسامیوں میں 50 فیصد ترقی، 30 فیصد براہ راست بھرتی جبکہ 20 فیصد مقابلے کے امتحان کے ذریعے پر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔مجوزہ قانون میں پولیس شہداءکے بچوں کے لیے بھی خصوصی کوٹے کی تجویز شامل ہے جس کے تحت اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی سطح پر 12.5 فیصد کوٹہ مختص کیا جائے گا۔یاد رہے کہ قانونی مسودہ ہفتہ کے روز کابینہ اجلاس میں منظوری کیلئے پیش کیا گیا تاہم اجلاس میں موجود پولیس افسران نے شدید ردعمل ظاہر کیا جس پر مسودے پر مزید مشاورت کا فیصلہ کیا گیا ہے اور وزیر قانون سمیت کابینہ کی ذیلی کمیٹی ممبران نے آئی جی کیساتھ مشاورت شروع کردی ہے