World

سزائے موت دینے والا سابق جیل وارڈن پچھتاوے میں مبتلا

امریکی ریاست فلوریڈا کے سابق جیل وارڈن رون میک اینڈریو نے سزائے موت پر عمل درآمد کی نگرانی کے کئی برس بعد اپنا مؤقف تبدیل کرلیا۔ تقریباً تین دہائیاں قبل وہ جیل میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کی آخری کارروائیوں کی نگرانی کرتے تھے، تاہم بعد میں انہی تجربات نے انہیں سزائے موت کا مخالف بنا دیا۔

میک اینڈریو کے مطابق قیدیوں کے مقدمات اور ان کے آخری لمحات نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔ بعض قیدی اپنی بے گناہی کا دعویٰ کرتے رہے اور ان کے مقدمات سے متعلق سوالات نے سابق وارڈن کو بھی سوچنے پر مجبور کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ آج بھی انہیں کئی قیدی یاد آتے ہیں اور رات کے وقت ان کی یادیں انہیں پریشان کرتی ہیں۔

ایک قیدی کے مقدمے میں ممکنہ بے گناہی کے خدشات نے ان کے مؤقف کو مزید تبدیل کیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد میک اینڈریو نے سزائے موت کے خاتمے کے لیے کام شروع کردیا اور اب قیدیوں کے قانونی دفاع میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی کے تجربات نے انہیں یہ یقین دلایا کہ سزائے موت کے معاملے میں غلط فیصلے کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *