World

ٹرمپ کا انکار ایران میں زمینی فوج اور جوہری حملے کا امکان مسترد

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے اور امریکی زمینی فوج تعینات کرنے کے امکانات مسترد کر دیے ہیں، تاہم امریکی میڈیا کے مطابق پینٹاگون ایران کی توانائی تنصیبات اور جوہری مراکز کو نشانہ بنانے کیلئے نئے حملوں کے منصوبوں پر غور کر چکا ہے، جن میں امریکا کے طاقتور ترین غیر جوہری بم کے ممکنہ استعمال کا آپشن بھی شامل ہے۔
نیوز میکس کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجنے کے حق میں نہیں ہیں اور نہ ہی ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا اس معاملے پر روس اور چین کے ساتھ مذاکرات بھی کر رہا ہے۔
ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان منصوبوں میں ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے مختلف آپشنز کا جائزہ لیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق منصوبہ بندی سے واقف ذرائع نے بتایا کہ امریکی اسلحہ خانے میں موجود جی بی یو-43/بی میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ (ایم او اے بی) بم کے ممکنہ استعمال پر بھی غور کیا گیا ہے۔ اس بم کو عام طور پر ’مدر آف آل بمز‘ کہا جاتا ہے اور یہ دنیا کے طاقتور ترین غیر جوہری بموں میں شمار ہوتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف اس نوعیت کے ہتھیار کا استعمال تنازع میں مزید شدت پیدا کر سکتا ہے اور امریکا و ایران کے درمیان فوجی محاذ آرائی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ تاہم اس بم کی غیر معمولی تباہ کن صلاحیت کے باوجود یہ سوال برقرار ہے کہ آیا اس کا استعمال کسی اہم فوجی یا اسٹریٹجک مقصد کے حصول میں مؤثر ثابت ہوگا یا جنگ کی صورت حال میں کوئی فیصلہ کن تبدیلی لا سکے گا۔
ٹرمپ کی جانب سے زمینی فوج اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو مسترد کیے جانے کے باوجود ایران کے خلاف ممکنہ حملوں سے متعلق امریکی منصوبہ بندی کی اطلاعات خطے میں جاری کشیدگی اور واشنگٹن کی آئندہ حکمت عملی کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دے رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *