Blog
ٹرمپ کا اشارہ امریکی صدر کا ایران پر دوبارہ حملے کا عندیہ، توانائی تنصیبات اور جوہری مراکز ممکنہ اہداف قرار

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جلد دوبارہ حملے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا مزید فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچا چکا ہے، تاہم مزید کارروائی کا امکان بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
امریکی وسط مدتی انتخابات پر جنگ کے ممکنہ اثرات سے متعلق سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ بعض ووٹرز ان کے اقدامات کو پسند کر سکتے ہیں، تاہم اس جنگ کی ایک قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔
اس سے قبل ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت نہیں ہو رہی اور تنازع کے حوالے سے جلد کوئی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔ ان کے مطابق امریکا فوجی اور مالی اعتبار سے ایران کے خلاف اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انہوں نے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل اور وہاں مبینہ حملوں اور بارودی سرنگوں کے واقعات کا ذکر بھی کیا۔
ادھر امریکی اخبار کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کی افواج ممکنہ کارروائیوں کی مشقیں بھی تیز کر رہی ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ممکنہ اہداف میں ایران کی توانائی تنصیبات، جوہری مراکز اور میزائل و ڈرونز کے ذخائر شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان مبینہ منصوبوں اور ممکنہ اہداف کے حوالے سے حتمی سرکاری تصدیق سامنے آنے کی تفصیلات رپورٹ میں بیان نہیں کی گئیں۔