Blog
تبت میں زلزلہ 7 شدت کے زلزلے سے 16 افراد ہلاک، 65 زخمی، 12 ہزار سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل

بیجنگ: چین کے جنوب مغربی علاقے تبت میں 7 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور 65 زخمی ہوگئے، جبکہ 12 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق زلزلہ 22 اکتوبر کو آیا، جس کا مرکز شمالی تبت کے شہر ناگچو میں تھا۔ بلند پہاڑی علاقے میں واقع اس شہر میں آبادی نسبتاً کم ہے، تاہم زلزلے کے باعث مختلف مقامات پر نقصان پہنچا ہے۔
مقامی حکومت نے جمعے کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تازہ تعداد بتائی۔ حکام کے مطابق امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا جائزہ لینے، زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔
ناگچو پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق متاثرہ علاقے میں 300 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں ٹریفک پولیس اور کمیونٹی پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ اہلکار گھروں اور عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لینے کے ساتھ امدادی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔
چین کے سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق زلزلے کے بعد 12 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری ویڈیوز میں شہریوں کو گھروں سے نکل کر کھلی جگہوں اور سڑکوں پر گاڑیوں میں پناہ لیتے دیکھا گیا۔
چین کے زلزلہ نیٹ ورکس سینٹر کے مطابق شدید زلزلے کے بعد اب تک 413 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بڑے زلزلے کے بعد آنے والے یہ جھٹکے پہلے سے متاثرہ عمارتوں اور دیگر ڈھانچوں کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ جنوری 2024 کے بعد چین میں آنے والے شدید ترین زلزلوں میں سے ایک ہے۔ اس سے قبل 2010 میں چین کے شہر یوشو میں 7.1 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس میں کم از کم 2 ہزار 698 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
تبت میں حالیہ زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ حکام متاثرہ آبادی کی ضروریات پوری کرنے اور مزید نقصانات سے بچاؤ کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔