Pakistan

گنجائش ختم توشہ خانہ کے نئے قوائد سے قیمتی تحائف اپنے پاس رکھنے کی گنجائش ختم

اسلام آباد: وفاقی حکومت کے توشہ خانہ سے متعلق نئے قواعد کے تحت وہ سابقہ راستہ بند کردیا گیا ہے جس کے ذریعے سرکاری عہدیدار 300؍ ڈالر تک مالیت کے تحائف کی تخمینہ شدہ مارکیٹ ویلیو ادا کرکے انہیں اپنے پاس رکھ سکتے تھے۔تاہم ایک کمیٹی کو یہ اختیار حاصل رہے گا کہ وہ طے کرے کہ قیمتی اور سفارتی لحاظ سے حساس تحائف میں سے کن اشیاء کو عوامی نیلامی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ توشہ خانہ کے 2023ء کے طریقۂ کار اور توشہ خانہ (انتظام و انضباط) قواعد 2026ء کے تقابلی جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سابقہ پالیسی کے تحت 300؍ ڈالر سے زائد مالیت کے تحائف ریاستی ملکیت بن جاتے تھے جبکہ نئے ضابطہ جاتی نظام کے تحت ایسے تحائف، جنہیں سفارتی یا ثقافتی بنیادوں پر قبول کرنے سے انکار نہیں کیا جاسکتا، توشہ خانہ میں جمع کرانا لازم ہے۔ نئے قواعد میں ان تحائف کی کھلی نیلامی کا بھی انتظام کیا گیا ہے جنہیں فروخت کیلئے پیش کیا جاسکتا ہو۔ زیادہ اہم شق ان تحائف سے متعلق ہے جنہیں نیلام نہیں کیا جائے گا۔ 2026ء کے قواعد کے تحت نوادرات اور ثقافتی یا تاریخی اہمیت کی حامل اشیا کو نیلامی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، جبکہ قیمتی تحائف اور سفارتی یا بین الاقوامی لحاظ سے حساس سمجھے جانے والے تحائف کو بھی نیلامی سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے۔ اس کا فیصلہ کابینہ سیکریٹری کی سربراہی میں قائم کمیٹی کرے گی، جس میں وزارتِ خزانہ، وزارتِ خارجہ، وزارتِ قانون اور ثقافت کے اعلیٰ نمائندے شامل ہوں گے۔ اس شق کے نتیجے میں نیلام کیے جانے والے تحائف اور نیلامی کے عمل سے باہر رکھے جانے والے تحائف کے درمیان فرق پیدا ہوجاتا ہے۔ اگرچہ نیلامی سے استثنیٰ ملنے کا مطلب بذاتِ خود یہ نہیں کہ تحفہ وصول کرنے والا اسے ذاتی طور پر اپنے پاس رکھ سکتا ہے، تاہم قواعد کے تحت کمیٹی کے درجہ بندی سے متعلق فیصلے اس امر کا تعین کرنے میں اہمیت اختیار کرگئے ہیں کہ قیمتی تحائف کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔2023ء کے طریقۂ کار میں بھی 300؍ ڈالر کی حد سے زائد مالیت کے تحائف ذاتی طور پر اپنے پاس رکھنے پر پابندی عائد کی گئی تھی اور انہیں ریاستی ملکیت قرار دیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *