Blog
بزکشی، آج بھی مقبول وادی کیلاش کا صدیوں پرانا روایتی کھیل بزکشی، آج بھی مقبول

بزکشی کھیل کی تاریخ افغانستان سے جا ملتی ہے ، لیکن یہ چترال کی وادیوں میں بھی ایک تاریخ رکھتا ہے، وادی کیلاش کا صدیوں پرانا روایتی کھیل بزکشی آج بھی مقامی لوگوں میں اتنا ہی مقبول ہے جتنا ماقبل ہوا کرتا تھا۔مقامی لوگوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ہر سال چترال میں بزکشی کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں، اس میں مقامی نوجوان خصوصی دلچسپتی لیتے ہیں،اور اس کیلئے قیمتی گھوڑے بھی پال رکھے ہیں۔اس کھیل کی تاریخ کے حوالے سے مقامی کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ اس کھیل کا آغاز افغانستان سے ہوا تھا ، لیکن اب یہ وہاں دم توڑتا دکھائی دیتا ہے، لیکن ییہ صرف افغانستان ہی نہیں چترال کا بھی مقبول کھیل مانا جاتا ہے۔بزکشی بذات خود ایک روایتی گھڑ سواری کا کھیل ہے، جو مقامی ثقافت، بہادری، مہارت اور تاریخی ورثے کی عکاسی کرتا ہے، چترال کے علاقوں گبور اور کیلاش کی وادیوں میں کھیلا جانے والا یہ منفرد کھیل مقامی لوگوں کی ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہے۔خیبرپختونخوا کے ضلع چترال کے مختلف علاقوں، خصوصاً بمبوریت اور رمبور میں بزکشی کے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں، یہ کھیل نہ صرف مقامی ثقافت اور روایات کا حصہ ہے بلکہ علاقے کے نوجوانوں کے لیے دلچسپی اور مہارت کے اظہار کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے، اس کھیل کا شمار وسطی ایشیا اور افغانستان کے قدیم روایتی کھیلوں میں ہوتا ہے- چترال میں بھی یہ کھیل طویل عرصے سے کھیلا جا رہا ہے، جبکہ پڑوسی علاقوں نورستان اور بدخشان میں بھی اس روایت کے آثار موجود ہیں-اس کھیل کو دیکھنے کے لیے مقامی افراد سمیت بڑی تعداد میں شائقین آتے ہیں اور گھڑ سواروں کی مہارت سے لطف اندوز ہوتے ہیں، مقامی عمائدین کا کہنا ہے کہ علاقے میں اب بھی ایسے افراد موجود ہیں جن کے پاس خصوصی طور پر تیار کیے گئے گھوڑے ہیں، تاہم اس روایتی کھیل کو برقرار رکھنے کے لیے حکومتی سرپرستی ناگزیر ہے-
ان کے مطابق اگر اس کھیل کی باقاعدہ حوصلہ افزائی، مقابلوں کا انعقاد اور کھلاڑیوں کی معاونت کی جائے تو اسے مزید فروغ دیا جا سکتا ہے- بزکشی بظاہر ایک دلچسپ کھیل دکھائی دیتا ہے، لیکن اسے کھیلنا انتہائی مشکل اور خطرناک ہے- کھلاڑیوں کے مطابق اس کھیل کے لیے غیر معمولی طاقت اور برداشت رکھنے والے گھوڑوں کے ساتھ جسمانی طور پر مضبوط، تربیت یافتہ اور تجربہ کار گھڑ سواروں کی ضرورت ہوتی ہے-مقامی لوگوں کے مطابق موجودہ مقابلوں میں ایک میچ کا دورانیہ 20 منٹ رکھا گیا ہے- چترال کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک کھیل نہیں بلکہ علاقے کی ثقافتی شناخت اور تاریخی روایت کا حصہ ہے- ان کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو نئی نسل میں اس کھیل کی دلچسپی کم ہونے کا خدشہ ہے- مقامی حلقوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ طاقت کے اس کھیل کے مقابلوں کے انعقاد، کھلاڑیوں کی تربیت، گھوڑوں کی دیکھ بھال اور مناسب حفاظتی انتظامات کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ یہ منفرد روایتی کھیل آنے والی نسلوں تک منتقل کیا جا سکے-