تیسری شادی کی خواہش یا ہراسگی؟ مومنہ اقبال کے بڑے انکشافات
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی اسمبلی کے رکن ثاقب چدھڑ کے خلاف اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے کیس میں سنسنی خیز پیش رفت سامنے آئی ہے۔
نامور اداکارہ مومنہ اقبال اپنے وکیل کے ہمراہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے دفتر میں پیش ہوئیں، جہاں انہوں نے مبینہ ہراسگی سے متعلق اپنا مؤقف ریکارڈ کرایا۔
سیکیورٹی اور تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ این سی سی آئی اے کے دفتر میں پیشی کے دوران اداکارہ مومنہ اقبال نے مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے، دھمکی آمیز پیغامات اور دیگر ڈیجیٹل شواہد تفتیشی ٹیم کے حوالے کیے۔
حکام کی جانب سے ان ثبوتوں کی تصدیق اور کیس کے مختلف پہلوؤں سے متعلق اداکارہ سے تفصیلی سوال جواب کیے گئے، جو کئی گھنٹوں تک جاری رہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کیس کی حساسیت اور شوبز انڈسٹری سے وابستگی کے باعث میڈیا نمائندوں کی بڑی تعداد دفتر کے باہر موجود تھی تاہم اداکارہ مومنہ اقبال نے تفتیش مکمل ہونے کے بعد این سی سی آئی اے دفتر کا عقبی راستہ اختیار کرتے ہوئے روانہ ہو گئیں۔
بعدازاں اداکارہ مومنہ اقبال کے وکیل اور بہن نے میڈیا سے گفتگو کی۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ ایم پی اے نوٹس جاری ہونے کے باوجود تاحال پیش نہیں ہوئے۔ وکیل کے مطابق ایم پی اے اداکارہ مومنہ اقبال سے شادی کے خواہاں تھے اور دونوں کے درمیان 2022 سے تعلقات تھے۔
وکیل نے بتایا کہ ایم پی اے نے مومنہ اقبال کے لیے باقاعدہ رشتہ بھی بھیجا تھا اور وہ اداکارہ سے تیسری شادی کرنا چاہتے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب مومنہ اقبال کو ایم پی اے کی شادی کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے تعلق ختم کردیا۔
وکیل کے مطابق بعد ازاں جب مومنہ اقبال کا کہیں اور رشتہ طے پایا تو ایم پی اے کی جانب سے انہیں ہراساں کیا گیا۔
اداکارہ کے وکیل نے کہا کہ مومنہ اقبال کی شادی مقررہ تاریخ پر ہی ہوگی اور انہیں امید ہے کہ اداکارہ کو انصاف ملے گا۔ وکیل نے اس معاملے کا نوٹس لینے پر وزیراعلیٰ پنجاب کا بھی شکریہ ادا کیا۔
دوسری طرف لاہور میں اداکارہ مومنہ اقبال کے بعد مسلم لیگ نون کے ایم پی اے ثاقب چدھڑ بھی این سی سی آئی اے کے دفتر میں پیش ہو گئے جہاں ان سے تفتیش جاری ہے۔
یاد رہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال کی جانب سے دائر کی گئی آن لائن ہراسگی کی درخواست کے بعد معاملے کی تحقیقات کے لیے این سی سی آئی اے لاہور نے دونوں فریقین کو آج ادارے طلب کیا تھا۔
کراچی سے آن لائن موصول ہونے والی درخواست میں مسلم لیگ (ن) کے رکنِ صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف الزامات عائد کیے گئے ہیں، جس کے بعد این سی سی آئی اے لاہور نے ابتدائی کارروائی کا آغاز کیا۔
ابتدائی مرحلے میں کیس کا میرٹ پر جائزہ لیا گیا چونکہ معاملہ آن لائن ہراسگی کیس سے متعلق ہے، اس لیے ڈیجیٹل شواہد، سوشل میڈیا ریکارڈ اور دیگر متعلقہ مواد کا تفصیلی معائنہ کیا جائے گا۔




Leave a Reply
Want to join the discussion?Feel free to contribute!