امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی اور سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال نہ کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔اپنے تازہ بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا مرحلہ وار ایران کے اہم پاور پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس کا آغاز بڑے بجلی گھروں سے ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اس معاملے میں کسی تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ٹرمپ کے بیان پر ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس نوعیت کی کوئی کارروائی کی گئی تو مشرق وسطیٰ میں امریکی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔امریکی صدر نے ایک اور موقع پر میڈیا پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکا ایران کے خلاف اپنے اہداف حاصل کر چکا ہے، جبکہ بعض رپورٹس اس کے برعکس تاثر دے رہی ہیں۔یاد رہے کہ اس سے ایک روز قبل ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیاں محدود کرنے پر غور کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے ممالک کو اپنی سکیورٹی خود یقینی بنانا چاہیے

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق برطانیہ نے امریکا کو اجازت دے دی ہے کہ وہ ایرانی اہداف پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال کر سکے، خاص طور پر وہ اہداف جو آبنائے ہرمز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس سے قبل برطانیہ امریکی افواج کو صرف اُن کارروائیوں کے لیے برطانوی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے چکا تھا جن کا مقصد ایران کو ایسے میزائل فائر کرنے سے روکنا تھا جو برطانوی مفادات یا جانوں کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔تاہم جمعہ کو ہونے والے وزارتی اجلاس میں اس اجازت کے دائرہ کار کو وسیع کرنے پر اتفاق کیا گیا، جس کے تحت اب امریکی افواج برطانوی اڈوں کو آبنائے ہرمز میں جہازوں کے تحفظ کے لیے بھی استعمال کر سکیں گی۔ڈاؤننگ اسٹریٹ نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ خود ان حملوں میں براہِ راست شامل نہیں ہوگا اور حکومت کے مطابق تنازع کے حوالے سے برطانیہ کے اصولی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ترجمان کے مطابق وزرا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ برطانوی اڈے اب امریکی دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں، جن کا ہدف وہ صلاحیتیں ہوں گی جو آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔

حیدرآباد کنگز کے کپتان مارنوس لبوشین کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل سیزن 11 میں حیدرآباد ٹیم کی قیادت کرنے کیلئے بے تاب ہوں۔،اپنے ایک بیان میں مارنوس لبوشین نے حیدرآباد ٹیم کی قیادت کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل سیزن11 میں حیدرآباد ٹیم کی قیادت کرنے کے لیے بےتاب ہوں۔مارنوس لبوشین نے مزید کہا کہ حیدرآباد ٹیم کو جوائن کرنے کا منتظر ہوں، حیدرآباد کے فینز آئیں اور ہمیں سپورٹ کریں۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے تو ہوجائے ہوجمالو کا نعرہ بھی لگایا۔واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ کا یہ سیزن 26 مارچ سے 3 مئی تک کھیلا جائے گا اور پی ایس ایل کے نئے سیزن کا آفیشل اینتھم چاند رات پر ریلیز کیے جانے کا امکان ہے۔

آبنائے ہرمز میں جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر تعینات
امریکا نے آبنائے ہرمز میں آمد و رفت بحال کرنے کیلئے جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر تعینات کردیے,امریکا نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک مرحلہ وار فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے جس کے تحت کم بلندی پر پرواز کرنے والے اے-10 وار تھوگ طیارے اور اپاچی ہیلی کاپٹرز تعینات کیے گئے ہیں۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی جنرل ڈین کین نے بتایا کہ امریکی طیارے ایران کے جنوبی ساحل کے قریب تیز رفتار کشتیوں اور ڈرونز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس کارروائی کا مقصد ان بارودی سرنگوں، مسلح کشتیوں اور کروز میزائلوں کو ختم کرنا ہے جن کی وجہ سے مارچ کے آغاز سے آبنائے ہرمز بند ہے۔امریکی حکام کے مطابق اگر یہ آپریشن کامیاب ہوتا ہے تو امریکی جنگی بحری جہاز خلیج میں تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کر سکیں گے۔
خیال رہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی معیشت شدید متاثر ہوئی ہے۔ یہ گزرگاہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل برآمدات کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اس کی بندش کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھیں جو بعد میں تقریباً 108 ڈالر پر آگئیں۔

پرتگالی اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے تمام مسلمانوں کو عید الفطر کی مبارکباد کا پیغام دیا ہے۔فٹبال کی دنیا کے بہترین کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو نے عید الفطر کے موقع پر دُنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مبارک باد کا پیغام جاری کیا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کیے گئے اپنے پیغام میں پرتگال کے اسٹار فٹبالر نے عید کی مناسبت سے اپنی تصویر بھی شیئر کی جو بظاہر عربی جبہ دکھائی دے رہا ہے۔اپنی پوسٹ میں کرسٹیانو رونالڈو نے لکھا ’سب کو عید مبارک ، اُمید ہے کہ آپ کا یہ دن اپنے خاندان والوں اور پیاروں کے ساتھ بہت خاص ہوگا۔سعودی فٹبالر کلب النصر سے وابستہ اسٹار فٹبالر نے آخر میں تمام مسلمانوں کو عید کی مبارکباد بھی دی۔

دنیا بھر میں عید کی خوشیاں منائی جارہی ہیں لیکن فلسطینیوں کیلئے یہ عید ظلم و ستم کے سلسلے کا ایک حصہ ہے۔خصوصی طور پر غزہ میں بے گھر فلسطینیوں کے لیے یہ عید بالکل مختلف اور بہت مشکل حالات میں گزر رہی ہے۔ بہت سے لوگ اپنے گھروں سے محروم ہوکر خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں رہ رہے ہیں۔کئی خاندان اپنے پیاروں کو کھو چکے ہیں، اس لیے عید کا دن، اُن کیلئے کسی غم سے کم نہیں۔ لاکھوں لوگوں نے کیمپوں میں رہتے ہوئے عید کا دن گزارا۔ لوگ اپنے خیموں کو سادہ سجاوٹ سے عید جیسا ماحول دینے کی کوشش کرتے نظر آئے۔بچے محدود وسائل کے باوجود کھیلتے رہے تاکہ کچھ خوشی کا احساس ہو۔ فلسطینیوں نے کھلے میدانوں یا عارضی جگہوں پر نمازِ عید ادا کی کیونکہ مساجد تباہی کا شکار ہیں۔ فلسطینیوں کیلئے عید اب صرف تہوار نہیں بلکہ صبر اور امید کی علامت بن چکا ہے۔

وزیراعظم نیتن یاہو نے میڈیا کوبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ میں سب سے پہلے تو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں زندہ ہوں، اور آپ کے سامنے ہوں،۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ میں اب تک حاصل ہونے والی پیش رفت کے مطابق ’ہم جیت رہے ہیں اور ایران کو شدید نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے میزائل اور ڈرونز کے ذخائر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور ان صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔ نیتن یاہو کے مطابق حملوں کا ہدف وہ فیکٹریاں ہیں جو میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں کے لیے پرزے تیار کرتی ہیں۔
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ان کے مطابق ایران اب یورینیم افزودگی اور بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے، تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات پہلے جاری تھے مگر ناکام ہو گئے، جس کے بعد 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے شروع کیے۔ اس دوران ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور بعض خلیجی ممالک پر میزائل داغے اور آبنائے ہرمز میں ٹینکروں کی نقل و حرکت محدود کی۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا ایرانی عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے یا نہیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ایرانی عوام کو خود کرنا ہوگا۔
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ زمینی کارروائی کے کئی امکانات موجود ہیں لیکن اس حوالے سے وہ تفصیلات ظاہر نہیں کریں گے۔
پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر حصوں میں دن اور رات کا دورانیہ 20 مارچ کو لگ بھگ یکساں ہو جائے گا۔
20 مارچ کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بج کر 46 منٹ پر اعتدال ربیعی یا Spring Equinox کا آغاز ہوگا۔
یہ وہ موقع ہوتا ہے جب سورج شمال کی طرف جاتے ہوئے خط استوا کے اوپر سے گزرتا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر حصوں میں دن اور رات کا دورانیہ 12، 12 گھنٹے کا ہوجائے گا۔
خیال رہے کہ خط استوا دنیا کے نقشے پر بالکل درمیان میں کھینچا گیا ایک فرضی خط یا لکیر ہے جو ہماری دنیا کو شمال اور جنوب کی طرف دو برابر حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔
اعتدال ربیعی کے موقع پر چونکہ سورج خط استوا کے اوپر ہوتا ہے تو دنیا میں لگ بھگ ہر جگہ سورج کی روشنی یکساں مقدار میں پہنچتی ہے۔
اعتدال ربیعی کے موقع پر سورج عین مشرق سے طلوع اور عین مغرب میں غروب ہوگا اور اس وجہ سے یہ ایک اہم فلکیاتی ایونٹ ہے۔ ایسا ہی ستمبر میں بھی ہوتا ہے جب اعتدال خریفی یا September equinox کا آغاز ہوتا ہے، اس وقت سورج شمالی سے جنوبی نصف کرے کی جانب جاتے ہوئے خط استوا کے اوپر سے گزرتا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے بلوم برگ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا کو فضائی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔رپورٹ کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 16 امریکی طیارے تباہ ہو چکے ہیں، جن میں 10 ریپر ڈرون بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 6 امریکی جنگی طیاروں کو شدید نقصان پہنچنے کی بھی اطلاعات ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تین امریکی جنگی طیارے کویت کی فضاؤں میں تباہ ہوئے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر فرینڈلی فائر کا نشانہ بنے۔اسی طرح ایک کے سی 135 ری فیولنگ طیارہ دورانِ پرواز حادثے کا شکار ہو گیا، جس میں سوار عملے کے تمام 6 افراد ہلاک ہو گئے۔

ایران کی سب سے بڑی توانائی تنصیبات پارس گیس فیلڈ پر صیہونی حملے کے بعد جوابی کارروائی میں اسرائیل کی حیفہ آئل ریفائنری پر میزائلوں سے حملہ کیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ شمالی شہر حیفا میں واقع آئل ریفائنری کو ایرانی میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔
اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن کے مطابق حملے کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی عارضی طور پر متاثر ہوئی، تاہم زیادہ تر علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی۔