امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی حیران کن دعوے کرتے ہوئے خطے کی صورتحال کو مزید سنجیدہ قرار دے دیا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر کی موت کی خبریں محض افواہ بھی ہو سکتی ہیں جبکہ ایران اب تک امریکا کی شرائط ماننے کے لیے تیار نہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں تاہم اس بارے میں ابھی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرنے والے ممالک کو اس اہم سمندری راستے کی سیکیورٹی یقینی بنانا ہوگی۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کے اہم آئل ٹرمینل واقع خارگ جزیرے کا زیادہ تر حصہ حملوں میں تباہ ہو چکا ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اس جزیرے پر تفریح کے لیے شاید مزید حملے بھی کیے جا سکتے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاعی نظام کے لیے انتہائی اہم میزائل انٹرسیپٹرز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اسرائیل کئی ماہ سے اپنی محدود دفاعی صلاحیت کے بارے میں امریکا کو آگاہ کر رہا تھا۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام نے ہفتے کے روز امریکا کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا کہ بیلسٹک میزائل روکنے کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹرز کی تعداد تیزی سے کم ہو گئی ہے، جس کے باعث اسرائیل کے دفاعی نظام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور اس کا بڑا سبب تیل کی سپلائی کا متاثر ہونا ہے۔
دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے جسے فی الحال ایران نے بند کیا ہوا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک جاسکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر خلیج کے ممالک سے تیل کی ترسیل متاثر رہی تو عالمی منڈی میں روزانہ کروڑوں بیرل سپلائی کم ہو سکتی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ابراہام لنکن کیریئراسٹرائیک گروپ اب بھی ایران کے خلاف فعال ہے،سینٹ کام نے بحری جہاز پر طیاروں کی آمد ورفت کی ویڈیو بھی جاری کردی۔
پاسداران انقلاب بحری بیڑے کو ناکارہ بنانے کادعویٰ کررہےہیں، اس سے پہلے بھی وہ اس جہاز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کرچکے ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک قریبی مشیر نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف کارروائی کو کامیاب قرار دے کر جنگ ختم کرے اور وہاں سے نکل جائے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ٹیک اور اے آئی مشیر ڈیوڈ سیکس نے ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ امریکا کو فتح کا اعلان کر کے ایران سے نکل جانا چاہیے۔ڈیوڈ سیکس کا کہنا تھا کہ جنگ کو مزید بڑھانا تباہ کن نتائج پیدا کر سکتا ہے اور امریکا کو ایک لمبی جنگ میں پھنسا سکتا ہے۔واضح رہے کہ ایران جنگ کو لے کر وائٹ ہاؤس میں اختلاف پایا جارہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت کے اندر اس جنگ کے بارے میں دو مختلف رائے موجود ہیں۔ کچھ حکام چاہتے ہیں کہ فوجی کارروائی جاری رکھی جائے تاکہ ایران کی فوجی صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو جائے۔جبکہ کچھ مشیر کہتے ہیں کہ امریکا اپنے اہداف حاصل کر چکا ہے، اس لیے اب جنگ ختم کر دینی چاہیے۔تاہم ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ اس جنگ کا اختتام اسی وقت ہوگا جب انہیں مناسب لگے گا۔

چین کے وزیرخارجہ وانگ یی نےکہا ہےکہ افغانستان اور پاکستان کےدرمیان موجود مسائل صرف مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے ہی حل کیے جاسکتے ہیں،طاقت کے استعمال سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
وانگ یی نےیہ بات افغان وزیرخارجہ امیرخان متقی سےٹیلی فون پرگفتگو کے دوران کہی،یہ رابطہ افغان وزیرخارجہ کی درخواست پرکیا گیا،دونوں رہنماؤں نے ایران کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
وانگ یی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال سے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات مزید بڑھ سکتے ہیں جو نہ صرف دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ہوگا بلکہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
گفتگو کے دوران افغان وزیرخارجہ امیرخان متقی نےافغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے چین کی سفارتی کوششوں کو سراہا،کہاافغان عوام طویل جنگوں سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور اب امن اور ترقی کے مواقع کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،افغانستان خطے میں بدامنی نہیں بلکہ امن کا ذریعہ بننا چاہتا ہے،

کراچی کے علاقے لانڈھی اور کورنگی کے کئی مقامات پر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں علاقے مکین گھروں سے باہر نکل آئے
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4 عشاریہ صفر ریکارڈ کیاگیا زلزلے کی گہرائی 10کلو میٹر تھی زلزلے کا مرکز ساوتھ کراچی سے 100 کلومیٹر دور تھا۔
زلزلے کےجھٹکوں کے باعث علاقہ مکین میں خوف و ہراس پھیل گیا شہری کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے ،تاحال کسی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سن رائزرز لیڈز نے جمعرات 12 مارچ کو دی ہنڈرڈ لیگ کی نیلامی میں پاکستان کے مسٹری اسپنر ابرار احمد کو 1 لاکھ 90 ہزار پاؤنڈ (تقریباً 7 کروڑ 12 لاکھ پاکستانی روپے) میں اپنی ٹیم کا حصہ بنایا تھا۔ اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی فرنچائز کا ایکس اکاؤنٹ معطل ہو گیا۔ سن رائزرز لیڈز دراصل بھارتی میڈیا گروپ سن گروپ کی ملکیت ہے جو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی ٹیم سن رائزرز حیدرآباد کا بھی مالک ہے۔ اس گروپ کی سربراہ معروف بھارتی بزنس مین کلانِتھی مارن ہیں جبکہ فرنچائز کی سی ای او کاویا مارن نیلامی کے دوران لندن میں موجود تھیں۔نیلامی کے دوران کاویا مارن کے ساتھ ٹیم کے ہیڈ کوچ ڈینیئل ویٹوری بھی موجود تھے، جہاں سن رائزرز لیڈز نے ٹرینٹ راکٹس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ابرار احمد کو اپنی ٹیم میں شامل کیا۔ ٹیم کی قیادت انگلینڈ کے ٹی ٹوئنٹی کپتان ہیری بروک کریں گے۔رپورٹس کے مطابق اس وقت اگر کوئی صارف سن رائزرز لیڈز کا ایکس اکاؤنٹ کھولنے کی کوشش کرے تو اسے پیغام ملتا ہے، جس کا مفہوم ہے، ”اکاؤنٹ سسپینڈڈ۔ ایکس اُن اکاؤنٹس کو سسپینڈ کرتا ہے جو ایکس کے رولز کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔“تاہم سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی جانب سے تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اکاؤنٹ کس وجہ سے معطل کیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی ٹیم فیفا ورلڈکپ میں شرکت کے لیے امریکا آئی تو ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوگا۔تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی قومی فٹبال ٹیم کو فیفا ورلڈکپ 2026 سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ان کی اپنی جان اور سلامتی کے لیے بہتر ہو سکتا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔فیفا ورلڈکپ رواں سال 11 جون سے 19 جولائی تک امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں مشترکہ طور پر کھیلا جائے گا۔ایران کی ٹیم نے ایشیائی کوالیفائنگ مرحلے میں گروپ اے میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے مسلسل چوتھی بار ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔تاہم حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کے باعث ایران کی شرکت غیر یقینی بن گئی ہے۔ایرانی فٹبال فیڈریشن کے سربراہ مہدی تاج نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ورلڈ کپ میں شرکت مشکل دکھائی دیتی ہے۔اسی طرح ایران کے وزیر کھیل نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ حالیہ حملوں اور کشیدگی کے بعد ٹیم کے لیے ٹورنامنٹ میں حصہ لینا ممکن نہیں رہا۔دوسری جانب فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو نے اس سے قبل کہا تھا کہ انہیں امریکی صدر کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ایرانی ٹیم کو ٹورنامنٹ میں خوش آمدید کہا جائے گا، کیونکہ فٹبال دنیا کو جوڑنے کا ذریعہ ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے اعلان کیا کہ امریکی فوج کے سینٹکام نے ایران کے خارگ جزیرے پر بڑے پیمانے پر بمباری کی۔ ٹرمپ کے مطابق حملوں میں جزیرے پر موجود تمام فوجی اہداف کو تباہ کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے طاقتور ترین بمباری حملوں میں سے ایک تھا۔
خارگ جزیرہ ایران کے خلیج فارس میں واقع سب سے اہم تیل برآمدی مرکز ہے۔ ایران کے تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات اسی جزیرے سے ہوتی ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ابھی تیل کی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو روکنے کی کوشش کی تو تیل کے تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ اس نے امریکی کیریئر پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون سے حملہ کیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں کی گئی۔ بعض رپورٹس میں بتایا گیا کہ ایران کی جانب سے چار بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے۔
دوسری جانب امریکی حکام نے اس خبر کی تردیدی کی ہے اور کہا ہے کہ جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ میزائل جہاز کے قریب بھی نہیں پہنچے اورکیریئر معمول کے مطابق اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔