امریکا اور ایران کے درمیان مشروط دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں بڑا ردعمل سامنے آیا ہے تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔
عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 15.9 فیصد کمی کے بعد 92.30 ڈالر فی بیرل تک آ گئی جبکہ امریکی مارکیٹ میں ٹریڈ ہونے والا خام تیل بھی تقریباً 16.5 فیصد کمی کے ساتھ 93.80 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
تاہم ماہرین کے مطابق قیمتیں اب بھی اس سطح سے زیادہ ہیں جہاں تنازع شروع ہونے سے قبل 28 فروری کو تیل تقریباً 70 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔
یاد رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل اور گیس کی سپلائی شدید متاثر ہوئی تھی، خاص طور پر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر حملوں کی دھمکی کے بعد توانائی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
جنگ بندی کے بعد ایشیا پیسیفک خطے کی اسٹاک مارکیٹس میں بھی زبردست تیزی دیکھنے میں آئی۔
جاپان کے نکئی 225 انڈیکس میں 4.5 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 5.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف بمباری دو ہفتوں کے لیے معطل کی جا رہی ہے بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طور پر کھولنے پر آمادہ ہو۔
دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی عندیہ دیا کہ اگر ایران کے خلاف حملے روک دیے جائیں تو تہران جنگ بندی پر آمادہ ہے اور آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدورفت ممکن بنائی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی دوبارہ بڑھی تو توانائی کی قیمتیں ایک بار پھر آسمان کو چھو سکتی ہیں، تاہم فی الحال جنگ بندی نے عالمی معیشت کو بڑا ریلیف فراہم کیا ہے۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے عالمی سطح پر ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا جنہوں نے ایران پر متوقع حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ سوشل ٹروتھ پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو امریکہ دو ہفتوں کے لیے ایران پر بمباری اور حملے معطل رکھنے پر تیار ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو دو طرفہ جنگ بندی قرار دیا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے بیشتر فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے کے حوالے سے پیش رفت بھی کافی آگے بڑھ چکی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے جسے مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد سمجھا جا رہا ہے۔
ڈونلڈ جے ٹرمپ نے مزید کہا کہ ماضی کے بیشتر تنازعاتی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے اور آئندہ دو ہفتے اس معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے قریب پہنچنے کا اہم موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک طویل مسئلے کے حل کی جانب بڑا قدم ہے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجاویز کو بظاہر مسترد کر دیا ہے اور اس حوالے سے اپنا باضابطہ ردعمل پاکستان کے ذریعے پہنچا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران صرف عارضی جنگ بندی کے بجائے جنگ کے مکمل اور مستقل خاتمے پر زور دے رہا ہے۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ وقتی سیزفائر مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک جامع معاہدہ ہی خطے میں پائیدار امن لا سکتا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے بھیجے گئے ردعمل میں 10 نکات شامل ہیں، جن میں خطے میں جاری تنازعات کے خاتمے، آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری گزرگاہ کے قیام، اور عالمی پابندیوں کے خاتمے جیسے اہم مطالبات شامل ہیں۔
مزید برآں، ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی تعمیر نو کو بھی اپنی شرائط کا حصہ بنایا ہے،
جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران کسی بھی معاہدے میں اپنے معاشی اور سکیورٹی مفادات کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ مؤقف خطے میں جاری کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، کیونکہ امریکا عارضی جنگ بندی کے ذریعے فوری کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے جبکہ ایران طویل المدتی حل کا خواہاں ہے

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے مسلسل اور مؤثر کردار ادا کیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کے خلاف حملے روک دیے جائیں تو ایرانی افواج بھی اپنی کارروائیاں معطل کر دیں گی۔
ایرانی وزیرِ خارجہ کے مطابق دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدورفت ممکن بنائی جائے گی، تاہم یہ عمل ایران کی مسلح افواج کے ساتھ مکمل رابطے اور تکنیکی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے مذاکرات کے لیے 10 نکاتی تجویز بھی پیش کر دی ہے، جس میں اہم مطالبات شامل ہیں۔ ان تجاویز کے مطابق ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کیا جائے، ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم کی جائیں اور مستقبل میں کسی بھی حملے کے خلاف مضبوط ضمانتیں فراہم کی جائیں

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ مجوزہ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہوگا۔
اسرائیلی وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم یہ فیصلہ چند شرائط سے مشروط ہے۔
بیان کے مطابق ایران کو فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنا ہوگا اور امریکا، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک پر حملے روکنا ہوں گے۔
اسرائیلی حکام نے واضح کیا کہ یہ دو ہفتوں کی جنگ بندی صرف ایران تک محدود ہے اور اس میں لبنان شامل نہیں ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لبنان کے محاذ پر کشیدگی برقرار رہ سکتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل امریکا کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد ایران کو جوہری، میزائل اور دہشت گردی کے خطرات سے روکنا ہے۔ اسرائیلی موقف کے مطابق ایران کو خطے میں سیکیورٹی خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے اس بیان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنان کو جنگ بندی سے باہر رکھنے سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کامیاب سفارتکاری کی بدولت بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات اسلام آباد میں کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے جہاں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کرے گا۔
ایرانی نیشنل سپریم کونسل کے بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے اور یہ عمل زیادہ سے زیادہ 15 دن تک جاری رہ سکتا ہے۔ مذاکرات کا بنیادی مقصد ایک حتمی اور دیرپا معاہدہ طے کرنا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکا سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو مقام کے طور پر منتخب کیا گیا ہے، جبکہ قطری میڈیا نے بھی ایرانی نیشنل سپریم کونسل کی جانب سے جنگ بندی کی تصدیق کی خبر نشر کی ہے۔ایرانی حکام کے مطابق حالیہ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو ایک باضابطہ معاہدے کی شکل دینا مذاکرات کا اہم ہدف ہوگا، جبکہ اگر دونوں فریق متفق ہوئے تو مذاکرات کا سلسلہ مزید آگے بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائی دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ان کے مطابق یہ فیصلہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی گفتگو کے بعد کیا گیا جنہوں نے ایران میں ممکنہ تباہی کو روکنے کی درخواست کی تھی۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ جنگ بندی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے مکمل اور محفوظ کھولنے کی یقین دہانی سے مشروط ہے اور اسے دوطرفہ سیز فائر قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے بھی پاکستان کی تجویز کردہ جنگ بندی کو قبول کر لیا ہے، جس کی منظوری ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے دی۔

ایران نے متحدہ عرب امارات پر ڈرونز اور بیلسٹک میزائل کے مزید حملے کیے اور شارجہ میں ٹیلی کام کمپنی پر بیلسٹک میزائل لگنے سے دو پاکستانی زخمی ہوگئے۔متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع سے جاری بیان کے مطابق شارجہ سینٹرل ریجن میں واقع تھوریا ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کی عمارت پر ایرانی بیلسٹک میزائل لگا، جس کے نتیجے میں دو پاکستانی معمولی زخمی ہوگئے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ حملے میں دو پاکستانی معمولی زخمی ہوئے ہیں اور انہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک اور بیان میں بتایا کہ متحدہ عرب امارات کی فضائی دفاع نے ایران سے فائر کیے گئے ایک بلیسٹک میزائل اور 11 ڈرونز کامیابی سے مار گرائے ہیں تاہم گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کسی جانی نقصان کی رپورٹ نہیں ہے۔بیان میں کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے ایران کے بدترین حملوں میں اب تک مجموعی طور پر 520 بیلسٹک میزائل، 20 کروز میزائل اور دو ہزار 221 ڈرونز گرائے ہیں۔ایرانی حملوں کے حوالے سے کہا گیا کہ ایرانی حملوں میں مزید دو شہادتوں کا اضافہ ہوا ہے، اس کے علاوہ مسلح افواج میں شامل ایک مراکشی شہری بھی شامل ہیں، اب تک شہادتوں کی مجموعی تعداد 10 ہوگئی ہے، جن میں پاکستانی، نیپالی، بنگلہ دیشی، فلسطینی، بھارتی اور مصری شہری شامل ہیں۔مزید بتایا گیا کہ ان حملوں میں 221 افراد زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کا تعلق امارات، مصر، سوڈان، ایتھیوپیا، فلپائن، پاکستان، ایران، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، آذربائیجان، یمن، یوگنڈا، ایریٹیریا، لبنا، افغانستان، بحرین، کوموروز، ترکیہ، عراق، نیپال، نائیجیریا، عمان، اردون، فلسطین، گھانا، انڈونیشیا، سویڈن، تیونس، مراکش اور روس سے ہے۔وزارت دفاع نے بتایا کہ ملک کی سیکیورٹی کو کسی قسم کے خطرے اور نقصان پہنچانے کے کسی بھی مقصد سے نمٹنے کے لیے پوری تیار ہیں تاکہ ملک کی خودمخار، سیکیورٹی اور استحکام کا دفاع یقینی بنایا جائے اور اپنے مفادات اور قومی صلاحیت کا دفاع کیا جائے۔

امریکا اور اسرائیل نے ڈیڈلائن ختم ہونے سے قبل ہی ایران پر حملے پر شروع کردیئے,امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خارگ جزیرے پر مشترکہ حملے کیے جب کہ دارالحکومت سمیت متعدد بڑے شہروں میں انفرا اسٹریکچر کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے خارگ جزیرے میں جس آئل ٹرمینل کو نشانہ بنایا ہے وہ ملک کا کلیدی تیل برآمدی مرکز ہے جہاں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔سوشل میڈیا پر باخبر صحافی باراک ریوڈ نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ خارگ جزیرے پر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔تاحال ان حملوں میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان سے متعلق کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ البتہ جائے وقوعہ پر امدادی ٹیموں کو جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔خیال رہے کہ خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ جہاں سے ایران کا خام تیل بڑی مقدار میں عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔دوسری جانب امریکا اور اسرائیل نے صدر ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کو کھولنے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل ہی ایران کے شہری علاقوں میں انفرااسٹریکچر کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ان تازہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں پُلوں، ریلوے لائنوں اور ایک مرکزی شاہراہ کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان قم اور کاشان میں ہوا ہے۔ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل اور امریکا کے کاشان شہر کے وسطی علاقے میں ہونے والے حملوں میں 2 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے۔ادھر شمالی ایران میں ایک اہم شاہراہ جو تبریز کو زنجان سے ہوتے ہوئے تہران سے ملاتی ہے جو امریکی حملے میں تباہ ہوگئی۔دوسری جانب تبریز سے تقریباً 90 کلومیٹر دور ایک اور مقام پر بھی فضائی حملہ کیا گیا جس میں ایک اوور پاس پل تباہ ہوگیا۔ایران کے کراج شہر میں امریکا نے ریلوے ٹریک کو بھی نشانہ بنایا جس میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جن کی تصدیق کی جا رہی ہے۔اس طرح صرف آج ایران پر ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 35 ہوگئی جن میں سے 18 البروز صوبے، 9 شہریار، 6 پردیس اور 2 کاشان میں نشانہ بنے۔واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو آج رات تک پوری تہذیب کو صفحہ ہستی سے مٹادیں گے جو دوبارہ پھر کبھی نہ اُٹھ پائے گی۔

پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ایرانی سفیر کے مطابق پاکستان کی جانب سے جاری خیرسگالی اقدامات اور سفارتی رابطے مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، اور اب یہ عمل ایک حساس اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ ان کوششوں سے متعلق مزید تفصیلات جلد سامنے آئیں گی۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بار پھر ایران کو آج رات تک آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے سخت الٹی میٹم دیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بحری آمد و رفت کے لیے نہ کھولا تو آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہوجائے گی جو دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گی۔صدر ٹرمپ نے یہ بیان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیا جو ان کے حالیہ الٹی میٹم کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے تقریباً 12 گھنٹے قبل سامنے آیا ہے جس سے ان کے سنگین عزائم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا۔ تاہم اب جب کہ مکمل اور کلی رجیم چینج ہو چکی ہے۔ زیادہ سمجھدار اور کم شدت پسند ذہن غالب آ سکتے ہیں، تو شاید کچھ انقلابی اور حیران کن مثبت تبدیلی بھی ممکن ہو۔انھوں نے مزید کہا کہ ہم آج رات دیکھیں گے، یہ دنیا کی طویل اور پیچیدہ تاریخ کے اہم ترین لمحات میں سے ایک ہوگا۔ 47 سال کی بلیک میلنگ، کرپشن اور خونریزی کا خاتمہ ہوجائے گا۔یاد رہے کہ اس سے قبل اتوار کو ایک سخت بیان میں صدر ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے ہرمز آبنائے کو نہ کھولا تو امریکا منگل کی شام سے ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا، جس میں بجلی گھر اور پُل شامل ہوں گے۔