آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی بحری تجارت کو شدید متاثر کر دیا ہے، جہاں ناکہ بندی کے باعث اس وقت تقریباً 2 ہزار بحری جہاز مختلف مقامات پر رُکے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی بحری ادارے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق 28 فروری سے یکم اپریل کے دوران خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور گلف آف عمان کے اطراف 20 سے زائد جہازوں پر حملے رپورٹ ہوئے جن میں کم از کم 10 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، ان واقعات کے بعد بحری راستے کو محفوظ تصور نہیں کیا جا رہا۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ صورتحال میں تقریباً 400 جہاز خلیج عمان میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ دیگر بحری جہازوں کو متبادل راستوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
کئی جہازوں کو سوئز کینال کی طرف موڑا جا رہا ہے جبکہ کچھ کو طویل سفر اختیار کرتے ہوئے کیپ آف گُڈ ہوپ کے بحری راستے سے ایشیا اور یورپ کے درمیان سامان کی ترسیل کرنا پڑ رہی ہے جس سے لاگت اور وقت دونوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا ایران کی بحری صلاحیت کو محدود قرار دیتا ہے تاہم ایرانی بحریہ کی چھوٹی آبدوزیں مڈگیٹ سب میرینز اب بھی خطرہ بنی ہوئی ہیں جو اس اہم گزرگاہ کے استعمال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔
علاقائی کشیدگی میں اضافے کے بعد سعودی عرب نے بھی آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرتے ہوئے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی ترسیل شروع کر دی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کی اجازت سے صرف 15 جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکے جو کہ جنگ سے پہلے کے معمولات کے مقابلے میں تقریباً 90 فیصد کم ہے۔
ایران کی اعلیٰ فوجی قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کو بے بنیاد اور حقیقت سے دور قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران کسی بھی دباؤ کے آگے جھکنے والا نہیں۔
ایرانی مشترکہ فوجی کمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکا کو مسلسل ناکامیوں اور سبکی کا سامنا ہے اور اس قسم کی سخت زبان دراصل انہی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ دھمکیوں کے ذریعے نہ تو امریکا اپنی ساکھ بحال کر سکتا ہے اور نہ ہی خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط بنا سکتا ہے۔
فوجی حکام نے مزید کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے بڑھتی ہوئی جارحانہ بیان بازی دراصل اس کی کمزوری کا اعتراف ہے۔ایران نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کے دباؤ یا دھمکی سے اس کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر امریکا نے کسی بھی نوعیت کی فوجی کارروائی یا جارحیت کی کوشش کی تو اس کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا جس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ایرانی قیادت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ممکنہ کشیدگی کی تمام تر ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے اور معاہدے پر آمادہ ہونے کے لیے سخت ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔
امریکی صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر مقررہ وقت تک کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو ایران کے توانائی کے مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
سعودی عرب نے خلائی میدان میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے اپنا ’شمس‘ سیٹلائٹ امریکی خلائی ادارے ناسا کے تاریخی آرٹیمس ٹو مشن کے ساتھ خلا میں بھیج دیا ہے، جس کے بعد سعودی عرب آرٹیمس پروگرام میں شامل ہونے والا پہلا عرب ملک بن گیا ہے۔یہ تاریخی مشن یکم اپریل کو امریکی ریاست فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے اسپیس لانچ سسٹم راکٹ کے ذریعے روانہ کیا گیا۔ اس مشن کا مقصد تقریباً 50 سال بعد انسانوں کو دوبارہ چاند کے قریب لے جانا ہے۔آرٹیمس 2 مشن میں 4 خلا باز شامل ہیں، جو 10 روزہ سفر کے دوران تقریباً 6 لاکھ 85 ہزار میل کا فاصلہ طے کرتے ہوئے چاند کے گرد چکر لگائیں گے اور پھر زمین پر واپس آئیں گے۔ اس مشن میں چاند پر لینڈنگ شامل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اہم آزمائشی مرحلہ ہے جو مستقبل میں انسانی لینڈنگ کی راہ ہموار کرے گا۔سعودی اسپیس ایجنسی کے مطابق ’شمس‘ سیٹلائٹ زمین کے مدار میں تقریباً 500 سے 709 کلومیٹر کی بلندی پر گردش کرے گا۔ یہ سیٹلائٹ موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی ڈیٹا اور دیگر سائنسی معلومات فراہم کرنے میں مدد دے گا، جس سے تحقیق اور موسمی پیشگوئی کے شعبوں میں پیش رفت متوقع ہے۔یہ مشن کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ پہلی بار ایک سیاہ فام خلا باز چاند کے مدار تک جائے گا، جبکہ پہلی بار ایک خاتون اور ایک غیر امریکی فرد کو بھی اس مشن میں شامل کیا گیا ہے، جو خلائی تحقیق میں تنوع کی عکاسی کرتا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل آرٹیمس ون مشن نومبر 2022 میں کامیابی سے مکمل کیا گیا تھا، تاہم اس میں کوئی انسان سوار نہیں تھا۔ اگر آرٹیمس 2 مشن کامیاب رہا تو یہ مستقبل میں انسانوں کی چاند پر واپسی کے لیے ایک بڑی پیش رفت ثابت ہوگا۔
گزشتہ رات امریکی صدر کی جارحانہ پریس کانفرنس کے بعد ایران میں عوامی سطح پر غیرمعمولی ردعمل سامنے آیا ہے جہاں لاکھوں افراد نے ملک کے دفاع میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف لڑنے کے لیے خود کو پیش کر دیا۔
ایرانی وزیر داخلہ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے خلاف ممکنہ محاذ آرائی کے پیش نظر گزشتہ 10 دنوں میں ایک کروڑ 20 لاکھ افراد نے رضاکارانہ طور پر اپنی رجسٹریشن مکمل کرالی ہے، رجسٹریشن میں گزشتہ روز غیر معمولی اضافہ نظر آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے فوج کا حصہ بنیں، جس پر بھرپور اور تیز رفتار ردعمل دیکھنے میں آیا۔
وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ رجسٹریشن کا عمل بدستور جاری ہے اور ملک کے مختلف حصوں سے شہریوں کی بڑی تعداد اس میں حصہ لے رہی ہے، جو دفاع وطن کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے ایک ویڈیو بھی نشر کی ہے جس میں سیستان سے تعلق رکھنے والے افراد کو جنگی تیاریوں اور ملک کے دفاع کے عزم کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اسے “ایک رات میں ختم” کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اپنے حالیہ بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر حالات نے تقاضا کیا تو امریکہ فوری اور فیصلہ کن کارروائی کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے اس کے ساتھ ساتھ عالمی تجارت کے اہم راستے آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس گزرگاہ سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں پر فیس لاگو کر کے امریکہ کو مالی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے اور اس سے خطے میں اثر و رسوخ بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔
سیاسی اور دفاعی ماہرین نے ٹرمپ کے اس بیان کو انتہائی سخت اور متنازع قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ایسے بیانات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں بلکہ عالمی منڈیوں، خصوصاً تیل کی قیمتوں پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے تاحال اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں ایسے بیانات پر سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی بیان بازی خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا سکتی ہے
عالمی مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے اس حوالے سے کسی بھی نئی پالیسی یا بیان کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے دوست ممالک نے اسے 5 ارب ڈالر سے زائد کی فراہمی کی یقین دہانی کرادی۔ذرائع نے کہا کہ متبادل ذرائع سے رقم کا بندوبست ہونے کے بعد پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر ادائیگی کا فیصلہ کیا، پاکستان کو جون تک مجموعی طور پر4.8 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنا ہیں۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے ان ادائیگیوں کا بندوبست کر لیا ہے، پاکستان کو مجموعی طور پر یو اے ای کو 3.5 ارب ڈالرز کے تین مخلتف فورم کی ادائیگی ہونا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یورو بانڈ دس سال کی مدت پوری کرنے کے بعد میچور ہوگیا، 1.3ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی اسی ہفتے ہونا ہے۔
ایران جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان کا تیار کردہ منصوبہ ایران اور امریکی قیادت کو پہنچا دیا گیا ہے۔رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کو جنگ ختم کرنے کا منصوبہ موصول ہو گیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے تیار کردہ فریم ورک تہران اور واشنگٹن کو پیش کیا گیا جس میں فوری جنگ بندی اور بعد ازاں جامع معاہدے کی تجاویز شامل ہیں۔منصوبے کے تحت جنگ بندی کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل کھولنے کا امکان ہے۔رپورٹس کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے کیے۔منصوبے کے مطابق 45 روزہ جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں حتمی مذاکرات متوقع ہیں جبکہ معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہو سکتی ہے۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلیجنس تنظیم کے سربراہ میجر جنرل مجید خادمی امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔یہ بات ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے پاسدارانِ انقلاب کے جاری کردہ بیان کے حوالے سے پیر کے روز رپورٹ کی۔بیان کے مطابق میجر جنرل مجید خادمی گزشتہ تقریباً پانچ دہائیوں سے ایران کے انٹیلیجنس اور سکیورٹی نظام میں اہم کردار ادا کر رہے تھے اور انہیں ملک کی سکیورٹی اسٹرکچر کی ایک کلیدی شخصیت سمجھا جاتا تھا۔پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ مجید خادمی کی خدمات ایران کی داخلی سلامتی اور انٹیلیجنس آپریشنز کے حوالے سے نہایت اہم تھیں، اور ان کی موت ملک کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ مرحوم کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے حوالے سے تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، اور مختلف محاذوں پر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ایران میں امریکی پائلٹ کے ریسکیو مشن کے دوران تباہ ہونے والے امریکی طیاروں کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس آپریشن میں استعمال ہونے والے دو جدید ایم سی 130 جے ٹرانسپورٹ طیارے ایک متروک (استعمال سے باہر) ایئربیس پر لینڈنگ کے دوران زمین میں دھنس گئے، جس کے بعد امریکی فوج کو انہیں خود ہی تباہ کرنا پڑا۔امریکی فضائیہ کے اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے مطابق ان دونوں طیاروں کی مالیت فی طیارہ 100 ملین ڈالر (یعنی 10 کروڑ ڈالر) سے زائد ہے، جس کے باعث اس واقعے کو مالی لحاظ سے بھی ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ طیارے خصوصی طور پر خفیہ فوجی آپریشنز کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ طیارے دشمن کے علاقوں میں فوجی دستوں کی خفیہ نقل و حرکت، دراندازی (انفلٹریشن) اور انخلا جیسے حساس مشنز انجام دیتے ہیں۔ان میں جدید سینسرز اور دفاعی نظام نصب ہوتے ہیں جو انہیں خاص طور پر ہیٹ سیکنگ میزائلوں سے بچاؤ میں مدد فراہم کرتے ہیں۔امریکی فضائیہ کا کہنا ہے کہ یہ طیارے کم بلندی پر پرواز کرنے اور دشمن کی نظروں سے بچ کر کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہیں دورانِ پرواز ایندھن فراہم کیا جا سکتا ہے، جبکہ یہ خود بھی ہیلی کاپٹروں اور دیگر طیاروں کو ایندھن دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔مزید یہ کہ یہ طیارے جدید ڈیجیٹل ایویانکس، نیویگیشن سسٹم اور طاقتور ٹربو پراپ انجنز سے لیس ہوتے ہیں، جو انہیں مشکل ترین حالات میں بھی آپریشن جاری رکھنے کے قابل بناتے ہیں۔ یہ طیارے عموماً رات کے وقت مشنز انجام دیتے ہیں تاکہ دشمن کی نظروں سے بچا جا سکے۔رپورٹس کے مطابق یہ طیارے امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے تیار کیے ہیں اور ان کی پرواز کی رینج تقریباً 3 ہزار میل ہے۔ ہر طیارے میں 5 افراد پر مشتمل عملہ ہوتا ہے، جن میں پائلٹس اور اسپیشل مشن کے ماہرین شامل ہوتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج اہم پریس کانفرنس کریں گے جس میں ایران سے جاری کشیدگی کے معاملے پر اہم گفتگو ہو گی۔ترجمان نے بتایا کہ صدر ٹرمپ امریکی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے جبکہ پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجے میڈیا سے خطاب کریں گے۔پریس کانفرنس وائٹ ہاؤس کے بریفنگ روم میں ہوگی اور اس میں اعلیٰ فوجی قیادت بھی صدر کے ہمراہ موجود ہوگی۔وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ پریس کانفرنس امریکی میڈیا کے مسلسل اصرار پر منعقد کی جا رہی ہے جس میں صدر ٹرمپ ایران سے متعلق جاری صورتحال اور ممکنہ اقدامات پر سوالات کے جوابات دیں گے۔سیاسی و سفارتی حلقوں میں اس پریس کانفرنس کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے جہاں خطے کی موجودہ کشیدگی کے تناظر میں بڑے اعلانات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔










