وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج اہم پریس کانفرنس کریں گے جس میں ایران سے جاری کشیدگی کے معاملے پر اہم گفتگو ہو گی۔ترجمان نے بتایا کہ صدر ٹرمپ امریکی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے جبکہ پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجے میڈیا سے خطاب کریں گے۔پریس کانفرنس وائٹ ہاؤس کے بریفنگ روم میں ہوگی اور اس میں اعلیٰ فوجی قیادت بھی صدر کے ہمراہ موجود ہوگی۔وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ پریس کانفرنس امریکی میڈیا کے مسلسل اصرار پر منعقد کی جا رہی ہے جس میں صدر ٹرمپ ایران سے متعلق جاری صورتحال اور ممکنہ اقدامات پر سوالات کے جوابات دیں گے۔سیاسی و سفارتی حلقوں میں اس پریس کانفرنس کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے جہاں خطے کی موجودہ کشیدگی کے تناظر میں بڑے اعلانات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کے ایک گروپ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی سے متعلق اہم بات چیت جاری ہے، جس کے تحت 45 روزہ سیز فائر پر غور کیا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ مجوزہ جنگ بندی دو مرحلوں پر مشتمل ہوگی، پہلے مرحلے میں 45 دن کی عارضی جنگ بندی کی جائے گی، جس کے دوران فریقین کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں اعتماد سازی کے اقدامات بھی زیر غور آئیں گے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔دوسرے مرحلے میں جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے ایک باضابطہ معاہدہ طے پانے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ اگر مذاکرات کو مزید وقت درکار ہوا تو اس عارضی جنگ بندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق اگلے 48 گھنٹوں کے اندر کسی بڑے یا حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں، تاہم یہ کوشش جنگ میں مزید شدت کو روکنے کا ایک اہم اور ممکنہ طور پر آخری موقع تصور کی جا رہی ہے۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس رپورٹ پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جس کے باعث صورتحال میں غیر یقینی برقرار ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ بندی کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے اور بڑے پیمانے پر تصادم کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں سکیورٹی کی ایک سنگین غفلت سامنے آئی ہے، جہاں میئر صادق خان کی حفاظت پر مامور پولیس افسران اسلحے سے بھرا بیگ سڑک پر ہی بھول گئے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جنوبی لندن میں پیش آیا، جہاں میئر کی رہائش گاہ کے قریب ایک شہری کو مشکوک بیگ ملا۔
اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور بیگ کو تحویل میں لے لیا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ یہ بیگ میئر کی سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کا تھا، جس میں اسلحہ موجود تھا۔
واقعے کے بعد میٹروپولیٹن پولیس نے فوری محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے 5 پولیس افسران کو فرنٹ لائن ڈیوٹی سے ہٹا دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق میٹ پولیس کے ڈائریکٹوریٹ آف پروفیشنل اسٹینڈرڈز نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ اس غفلت کے ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
دوسری جانب میئر لندن کے ترجمان نے اس واقعے کو سنگین غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ آئندہ ایسی کوتاہی دوبارہ نہ ہو۔
واضح رہے کہ سکیورٹی خدشات کے باعث صادق خان کو 2017 سے خصوصی پولیس سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے، تاہم حالیہ واقعہ نے سکیورٹی انتظامات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ناسا کی جانب سے ایکس (ٹوئٹر) پر چاند کی جانب سفر کرنے والے خلا بازوں کی کھینچی گئی تصاویر کو پوسٹ کیا گیا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں کسی ایک خلا باز کے الفاظ کو استعمال کیا گیا جس کا کہنا تھا کہ ہم زمین کو چاند کی طرح دیکھ رہے ہیں جو ایک خوبصورت نظارہ ہے۔
اس وقت اورین اسپیس کرافٹ زمین سے ایک لاکھ 52 ہزار میل سے زیادہ کا فاصلہ طے کر چکا تھا۔
خیال رہے کہ آرٹیمس 2 مشن یکم اپریل کو روانہ ہوا تھا اور یہ چاند کے مدار پر 6 اپریل کو پہنچے گا۔
یہ نصف صدی سے زائد عرصے بعد پہلی بار ہوگا جب خلا باز چاند کے مدار پر واپس لوٹ رہے ہیں، البتہ وہ چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھیں گے۔
ناسا کی جانب سے شیئر کی گئی ایک تصویر میں زمین کو مکمل طور پر دکھایا گیا۔ دوسری تصویر میں زمین کے ایک حصے کو دکھایا گیا جبکہ آدھا حصہ تاریکی میں چھپا ہوا تھا۔
اورین اسپیس کرافٹ چاند کے مدار میں 4 ہزار میل تک سفر کرکے پھر زمین کی جانب واپس لوٹے گا اور چاند کے اس حصے کے اوپر سے گزرے گا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔
واضح رہے کہ نومبر 2022 میں آرٹیمس 1 مشن چاند پر جاکر زمین پر واپس آنے میں کامیاب رہا تھا، مگر اس مشن میں کوئی انسان موجود نہیں تھا۔
10 روزہ آرٹیمس 2 مشن کا مقصد چاند کے گرد انسانوں کو پہنچانا اور پھر واپس لانا ہے۔
یہ خلا باز چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھیں گے مگر یہ 1972 کے بعد پہلی بار ہوگا جب کوئی انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر سفر کرے گا۔

مہنگے جیٹ فیول کے باعث پی آئی اے نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے انتظامیہ نے مختلف شعبوں کے افراد کو ملنے ڈسکاؤنٹ کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع کے مطابق پی آئی اے نے اسٹوڈنٹ، سینئر سٹیزن، جرنلسٹ ریٹائرڈ ملٹری پرسنز اے ایس ایف اہلکاروں کو ملنے والے ڈسکاؤنٹ کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور پی آئی اے انتظامیہ نے اس فیصلے سے تمام ایئرپورٹس پر اسٹاف کو ہدایت کردی ہیں۔
ترجمان پی آئی اے نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پی آئی اے نے تمام قسم کی رعایت چھوٹ واپس لے لی ہے یہ فیصلہ ایندھن کی قیمتیں معمول پر آنے تک کیا گیا ہے۔
ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ مہنگے جیٹ فیول سے پی آئی اے کو اخراجات میں شدید دباؤ ہے اسی وجہ سے تمام شعبوں کے افراد کو ملنے والے ڈسکاؤنٹ کو ختم کردیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس گروہ کی طاقت نے اسرائیلی فوج کو حیران کر دیا ہے۔
اسرائیلی فوجی کمانڈ کے سربراہ رفی میلیو ماسگب نے ایک بیان میں کہا کہ حزب اللہ نہ صرف مکمل طور پر فعال ہے بلکہ اس کے پاس تقریباً 10 ہزار راکٹ اور متعدد لانچرز موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ طویل عرصے تک جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
رفی میلیو ماسگب کے مطابق حزب اللہ چھ ماہ تک روزانہ 500 راکٹ داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو اسرائیل کے لیے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے بارے میں اسرائیل کی توقعات اور زمینی حقیقت میں واضح فرق سامنے آیا ہے۔

ایران کے شہید کمانڈر قاسم سلیمانی کی صاحبزادی زینب سلیمانی نے امریکی محکمہ خارجہ کے اس دعوے کی سختی سے تردید کر دی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے خاندان کی دو خواتین کو امریکا میں گرفتار کیا گیا ہے۔
زینب سلیمانی نے واضح بیان میں کہا کہ امریکا نے جن دو خواتین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، ان کا قاسم سلیمانی کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ خبر حقیقت کے برعکس ہے۔
دوسری جانب قاسم سلیمانی کی ایک اور بیٹی نرگس نے بھی ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس دعوے کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج تک قاسم سلیمانی کے خاندان یا قریبی رشتہ داروں میں سے کوئی بھی امریکا میں مقیم نہیں رہا
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا تھا کہ حمیدہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی، جو مبینہ طور پر قاسم سلیمانی کی رشتہ دار ہیں، کو امریکا میں گرفتار کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ دونوں خواتین گرین کارڈ ہولڈر تھیں اور امریکا میں پرتعیش زندگی گزار رہی تھیں، تاہم اب ان کے گرین کارڈ منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
ایرانی حکام اور سلیمانی خاندان کی جانب سے اس دعوے کی تردید کے بعد اس معاملے پر مزید وضاحت اور حقائق سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 48گھنٹے کی ڈیڈلائن پربین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سابق سربراہ محمد البرادعی کا سخت ردعمل سامنے آگیا جس میں انہوں نے بین الاقوامی برادری سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل میں محمد البرادعی نے کہا کہ مہربانی کریں، خلیجی ممالک کی حکومتیں جو کچھ ہو سکتا ہےکریں۔
محمد البرادی نے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، انتونیو گوتیریس ، یورپی کونسل، فرانس، چین اور روس سے بھی اپیل کی کہ کچھ کریں قبل اس کے کہ ٹرمپ خطے کو آگ کے گولے میں بدل دے۔
سابق سربراہ آئی اے ای اے نے کہا کیا ٹرمپ کاپاگل پن روکنےکے لیےکچھ نہیں کیاجاسکتا؟
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس 48 گھنٹے ہیں کہ وہ کوئی معاہدہ کر لے یا آبنائے ہرمز کھول دے، ورنہ اس پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یاد رکھیں جب میں نے ایران کو 10 دن دیے تھے کہ معاہدہ کرے یا آبنائے ہرمز کھول دے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے 18 سالہ بھتیجے عماد صدیقی کو ہیوسٹن میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا جس نے امریکا میں پاکستانی کمیونٹی کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعہ آلٹن میں پیش آیا جہاں کار جیکنگ کے دوران نامعلوم ملزمان نے عماد صدیقی کو گولی مار دی اور موقع سے فرار ہو گئے حملہ آور ایک کرسلر گاڑی میں سوار تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ قریبی سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے مشتبہ افراد کی شناخت کر لی گئی ہے جبکہ پاساندا پولیس ڈپارٹمنٹ ملزمان کی گرفتاری کے لیے متحرک ہے اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ادھر عماد صدیقی کی نماز جنازہ آج کو بعد نماز ظہر مسجد صابرین میں ادا کی جائے گی جہاں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت متوقع ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس وقت امریکہ میں دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت قید ہیں، اور اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران میں گرنے والے امریکی جنگی طیارے کے ‘لاپتا افسر’ کو کامیابی کے ساتھ بازیاب کرا لیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا: “ہم نے اسے حاصل کر لیا! گزشتہ چند گھنٹوں میں امریکی فوج نے تاریخ کے جرات مندانہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز میں سے ایک انجام دیا اور ہمارے ایک اہم افسر، جو ایک معزز کرنل بھی ہیں، کو بحفاظت واپس لے آئے ہیں۔”
رپورٹس کے مطابق یہ فوجی ایف ففٹین ایگل طیارہ گرنے کے بعد ایران میں لاپتا ہو گیا تھا اور تقریباً دو دن تک ایرانی حکام سے بچتے ہوئے روپوش رہا۔ بعد ازاں امریکی فورسز نے ایک خفیہ اور انتہائی خطرناک آپریشن کے ذریعے اسے نکال لیا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق یہ ریسکیو آپریشن رات کی تاریکی میں کیا گیا، جس کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔
اطلاعات ہیں کہ ایرانی حکام کو بھی اس اہلکار کی ممکنہ لوکیشن کا اندازہ تھا، جس کے باعث آپریشن مزید خطرناک ہو گیا تھا۔
اگرچہ سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ اس کارروائی میں کون سی فورسز شامل تھیں، تاہم اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ آپریشن امریکی اسپیشل فورسز نے انجام دیا۔
امریکی حکام کے مطابق بازیاب ہونے والا اہلکار اب ایران سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے اور مکمل طور پر محفوظ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت ہے، اور اس طرح کے خطرناک ریسکیو آپریشنز خطے میں صورتحال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں۔