مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ہی دن میں امریکی فضائیہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، جس میں مجموعی طور پر 7 طیارے یا ہیلی کاپٹر تباہ یا متاثر ہوئے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک F-15 جنگی طیارہ ایرانی حدود میں مار گرایا گیا، جبکہ ایک A-10 جیٹ کو خلیج فارس میں نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے سے متعلق مبینہ ویڈیو بھی جاری کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ کویت میں ایک چنوک ہیلی کاپٹر ڈرون حملے میں تباہ ہوا، جبکہ ریسکیو مشن کے دوران شریک دو ہیلی کاپٹر فائرنگ کی زد میں آ گئے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق ایک اور A-10 طیارہ حملے کے بعد ہٹ ہونے پر ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہوا۔ اسی طرح عراق میں ایک F-16 جنگی طیارے کو بھی ایمرجنسی بنیادوں پر اتارا گیا۔
رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حدود میں ایک KC-135 ری فیولنگ طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی۔
تاہم، ان تمام دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے، اور نہ ہی امریکی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں دونوں جانب سے اطلاعاتی جنگ (Information Warfare) بھی شدت اختیار کر لیتی ہے،

ایک ایسے زمانے میں جب وقت دیکھنے کے لیے اسمارٹ فونز اور ڈیجیٹل اسکرینز ہر جگہ موجود ہیں، نوجوان نسل یعنی جین زی روایتی کلائی پر باندھنے والی گھڑیوں کی طرف تیزی سے مائل ہورہی ہے۔ حیران کن طور پر وہی گھڑیاں جنہیں کبھی پرانا اور غیر ضروری سمجھا جانے لگا تھا، آج کے نوجوانوں کے لیے ایک خاص کشش اور جذباتی اہمیت اختیار کرچکی ہیں۔امریکا کی ریاست یوٹاہ سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ یوٹیوبر ایون فرائی اس رجحان کی واضح مثال ہیں، جن کے پاس 35 سے زائد قیمتی گھڑیاں موجود ہیں۔ ان کے کلیکشن میں سب سے نمایاں ’ٹیگ ہیور کیریرا‘ ہے، جسے انہوں نے ہالی ووڈ اداکار ریان گوسلنگ سے متاثر ہو کر خریدا۔ ایون کے مطابق گھڑیاں محض وقت بتانے کا ذریعہ نہیں بلکہ یادوں اور تاریخ کو اپنے اندر سموئے ہوتی ہیں۔مارکیٹ رپورٹس بھی اس رجحان کی تصدیق کرتی ہیں۔ لگژری گھڑیوں کے ری سیل پلیٹ فارم ’بیزل‘ کے مطابق ان کی فروخت کا تقریباً ایک تہائی حصہ 30 سال سے کم عمر خریداروں پر مشتمل ہے، جو نہ صرف گھڑیاں خرید رہے ہیں بلکہ مہنگی گھڑیوں پر زیادہ خرچ بھی کر رہے ہیں۔اسی طرح ’کرونو 24‘ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کلاسک ڈریس واچز کی خریداری میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ماہرین کے مطابق چونکہ جین زی مکمل طور پر ڈیجیٹل ماحول میں پلی بڑھی ہے، اس لیے اس میں ایسی چیزوں کی خواہش زیادہ ہے جو حقیقی ہوں، جنہیں چھوا جا سکے اور جو وقت کے ساتھ قائم رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان اکثر ایسی گھڑیاں تلاش کرتے ہیں جو ماضی کی یادوں سے جڑی ہوں، جیسے وہ ڈیزائن جو ان کی دادی یا نانی استعمال کیا کرتی تھیں۔دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اب گھڑیوں میں مردانہ اور زنانہ کی تفریق بھی دھندلا رہی ہے۔ نوجوان لڑکے بھی باریک اور نفیس ڈیزائن کی گھڑیاں پہننے لگے ہیں، جس کا رجحان معروف شخصیات کے انداز سے مزید مضبوط ہوا ہے۔ بڑے ایوارڈ شوز میں جب اداکار منفرد گھڑیاں پہن کر نظر آتے ہیں تو ان ڈیزائنز کی مانگ میں فوری اضافہ دیکھا جاتا ہے۔مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ آج کی نسل کے لیے گھڑی کا مقصد صرف وقت دیکھنا نہیں رہا۔ کچھ نوجوان ایسی گھڑیاں بھی خرید لیتے ہیں جو چلتی بھی نہیں، کیونکہ وہ انہیں فیشن ایکسیسریز یا زیور کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض کم عمر صارفین یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں سوئیوں والی گھڑی سے وقت پڑھنا نہیں آتا، مگر اس کے باوجود وہ اسے پہننا پسند کرتے ہیں۔یہ بدلتا ہوا رجحان اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی کلاسک اور مکینیکل چیزوں کی اہمیت ختم نہیں ہوئی بلکہ وہ ایک نئے انداز میں دوبارہ مقبول ہو رہی ہیں، جہاں گھڑی صرف وقت نہیں بلکہ شخصیت، یاد اور انداز کی نمائندگی بن چکی ہے۔

ماہرینِ صحت نے ایک سادہ مگر مؤثر عادت کی نشاندہی کی ہے جو روزمرہ زندگی میں شامل کر کے بڑی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق کھانے کے بعد محض 10 سے 15 منٹ کی ہلکی چہل قدمی جسم پر مثبت اور دیرپا اثرات مرتب کرتی ہے، جو نہ صرف ہاضمے بلکہ مجموعی صحت کو بھی بہتر بناتی ہے۔تحقیقی نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ کھانے کے فوراً بعد تھوڑی دیر چلنے سے معدہ اور آنتوں کی کارکردگی تیز ہو جاتی ہے، جس سے کھانا جلد ہضم ہوتا ہے اور بدہضمی یا بھاری پن کی شکایت کم ہو جاتی ہے۔اسی کے ساتھ یہ معمول خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ چہل قدمی کے دوران پٹھے گلوکوز کو توانائی کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جس سے شوگر لیول اچانک بڑھنے سے بچ جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ مکمل ورزش کا نعم البدل نہیں، لیکن روزانہ کی بنیاد پر مختصر واک وزن کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ اضافی کیلوریز جلانے کے ساتھ ساتھ غیر ضروری کھانے کی عادت کو بھی کم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ہلکی پھلکی چہل قدمی ذہنی سکون میں اضافہ کرتی ہے کیونکہ اس سے خوشی کے ہارمونز خارج ہوتے ہیں جو تناؤ کو کم کرتے ہیں اور توجہ بہتر بناتے ہیں۔دل کی صحت کے حوالے سے بھی یہ عادت نہایت مفید قرار دی گئی ہے۔ چہل قدمی خون کی روانی کو بہتر بناتی ہے، بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے اور دل کے امراض کے خطرات کو کم کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ نیند کے معیار کو بھی بہتر بناتی ہے، خاص طور پر اگر شام کے وقت ہلکی سرگرمی اپنائی جائے۔ماہرین کے مطابق کھانے کے بعد 30 سے 60 منٹ کے اندر ہلکی یا درمیانی رفتار سے واک کرنا بہترین نتائج دیتا ہے۔ اگر فوری طور پر چلنا ممکن نہ ہو تو چند منٹ انتظار کے بعد چہل قدمی شروع کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھانے کے بعد فوراً لیٹنے یا موبائل میں مصروف ہونے کے بجائے یہ چھوٹی سی عادت اپنانا طویل مدت میں صحت کے لیے نہایت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکا کی ایک خاتون کو آن لائن لاٹری کا ٹکٹ خریدتے وقت ایک غلط ’کلک‘ نے ڈھائی لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم کا انعام جتوا دیا۔امریکی ریاست مشیگن کی اوک لینڈ کاؤنٹی سے تعلق رکھنے والی 57 سالہ خاتون نے بتایا کہ وہ اپنے مخصوص نمبروں کا سیٹ استعمال کرتے ہوئے مشیگن لاٹری کی ویب سائٹ سے ٹکٹ خریدنے کی کوشش کر رہی تھیں۔انہوں نے کہا کہ نمبر منتخب کرتے وقت انہیں نے 47 کے بجائے غلطی سے 39 کو کلک کر دیا۔خاتون نے بتایا کہ انہوں نے یہ ٹکٹ رکھنے کا فیصلہ کیا کیوں کہ ان کی والدہ ہمیشہ کہتی ہیں کہ اتفاقات جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس شب انہیں ایک ای میل موصول ہوئی جو عموماً کچھ ڈالر جیتنے پر ملنے والی ای میل سے مختلف تھی۔ اس پیغام سے انہیں معلوم ہوا کہ ان کے منتخب شدہ پانچو نمبر 39-22-11-10-08 میچ ہوگئے اور انہوں نے انہوں نے 2 لاکھ 51 ہزار 738 ڈالر کا جیک پاٹ جیت لیا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اہم حکومتی عہدوں پر بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے پام بونڈی کی جگہ نائب اٹارنی جنرل ٹاڈ بلانچے کو قائم مقام اٹارنی جنرل مقرر کر دیا ہے۔ اس فیصلے کو امریکی انتظامیہ میں بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی اہم عسکری عہدے پر تبدیلی کرتے ہوئے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق وزیر دفاع ایسے آرمی چیف آف اسٹاف کی تقرری چاہتے ہیں جو فوجی معاملات میں صدر ٹرمپ اور ان کے وژن کے مطابق کام کر سکے۔جنرل رینڈی جارج اس سے قبل للوئیڈ آسٹن کے دور میں سینئر ملٹری اسسٹنٹ رہ چکے ہیں۔ وہ پہلی خلیجی جنگ، عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھی حصہ لے چکے ہیں اور ایک تجربہ کار فوجی افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ان تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت اپنی پالیسیوں اور عسکری حکمت عملی کو نئے انداز میں ترتیب دے رہی ہے، جس کے اثرات آئندہ دنوں میں سامنے آ سکتے ہیں

وزارت خزانہ کے ذرائع نے کہا ہے کہ تمام شرائط پوری کیے جانے کے بعد اب پاکستان کے لیے آئی ایم ایف فنڈ کی منظوری میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے ایکسٹنڈڈ فنڈ فسیلیٹی پروگرام کے تحت پاکستان کے تیسرے اقتصادی جائزہ پر ہونے والے اسٹاف لیول معاہدے اور ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی منظوری دینے کے لیے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس آئندہ ماہ( مئی )کے پہلے ہفتے منعقد ہوگا۔اس حوالے سے وزارت خزانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کی تمام شرائط پوری کردی ہیں اور آئی ایم ایف کو دوست ممالک کے قرض کے رول اوور کی یقین دہانی کرا دی گئی ہے، اس لیے اب آئی ایم ایف سے قرضے کی اگلی قسط کے اجرا کی منظوری کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ذرائع نے بتایا کہ توقع ہے کہ آئندہ ماہ ہونے والے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں ای ایف ایف کے تحت قرضے کی اگلی قسط اور کلائمیٹ فنانسنگ کے آر ایس ایف پروگرام کی 21 کروڑ ڈالر کی اگلی قسط بھی ملے گی۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو پیٹرولیم پر ٹارگٹڈ سبسڈی سے متعلق اعتماد میں لیا گیا ہے۔ اسی طرح تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ صارفین کو منتقل کرنے سے پہلے آئی ایم ایف سے مشاورت کی گئی ہے۔ٹارگٹڈ سبسڈی کی رقم رواں مالی سال کے بجٹ سے خرچ ہوگی اور مشکل حالات کے لیے 300 ارب کے ہنگامی فنڈز بھی دستیاب ہیں۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای کے ڈیپازٹس طویل مدت کے لیے روول اوور کرنے پر بات چیت جاری ہے اور توقع ہے کہ یو اے ای پاکستان کے ذمہ قرضہ جلد رول اوور کر دے گا۔ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کو دوست ممالک کے قرض کے رول اوور کی یقین دہانی کرا دی گئی ہے جبکہ اس وقت اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں سعودی عرب کے 5 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس ہیں، چین کے 4 ارب ڈالر اور یو اے ای کے 3 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس ہیں۔یو اے ای کے 2 ارب ڈالر رواں ماہ اور ایک ارب ڈالر کی واپسی جولائی میں ہونا ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔ تمام ادائیگیاں بروقت ہوں گی۔

پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے وسطی ایران میں جدید ترین امریکی لڑاکا طیارے ایف تھرٹی فائیو کو مار گرایا ہے۔ایران کا کہنا ہے کہ یہ دوسرا امریکی ایف-35 طیارہ ہے جسے حالیہ کشیدگی کے دوران نشانہ بنایا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ کارروائی ایران کی فضائی حدود میں کی گئی۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ طیارے کے پائلٹ کے بارے میں فی الحال کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔بعض رپورٹس کے مطابق طیارے میں اچانک دھماکے کی وجہ سے ممکنہ طور پر پائلٹ کو ایجیکٹ ہونے کا موقع نہیں ملا۔دوسری جانب امریکی سینٹکام نے اس دعوے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے، جس کے باعث اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے دعوے جنگی حالات میں اکثر سامنے آتے ہیں، جن کی تصدیق کے لیے مزید شواہد اور سرکاری بیانات کا انتظار ضروری ہوتا ہے۔

ناسا نے تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے راکٹ آرٹیمس 2 کو کامیابی کے ساتھ لانچ کر دیا، جس کے تحت چار خلا باز چاند کے گرد اہم سفر پر روانہ ہو گئے ہیں۔
یہ مشن امریکی ریاست فلوریڈا میں قائم کینیڈی اسپیس سینٹر سے لانچ کیا گیا، جہاں ہزاروں افراد نے اس تاریخی لمحے کو براہ راست دیکھا۔ یہ 50 سال سے زائد عرصے بعد پہلا موقع ہے کہ انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر سفر کر رہے ہیں۔
آرٹیمس II کے عملے میں ریڈ وائزمین، وکٹر گلور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈین خلانورد جیریمی ہینسین شامل ہیں جو تقریباً 10 روزہ مشن میں چاند کے گرد چکر لگا کر واپس زمین پر آئیں گے۔
لانچ کے دوران 32 منزلہ دیوہیکل راکٹ نے کامیابی سے اڑان بھری، جبکہ اس سے قبل ہائیڈروجن فیول کی بھرائی کے حساس مرحلے سمیت تمام تکنیکی مسائل بھی کامیابی سے حل کر لیے گئے۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت نے پنگا لیا تو پاک فوج پہلے سے زیادہ ذلت آمیز پھینٹی لگائے گی۔سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت اور بھارتی وزیر راج ناتھ سنگھ کے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان سے 5 سے 6 گنا بڑا ملک ہے اور اس کے وسائل بھی بے شمار ہیں، تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج بھی کروڑوں بھارتی فٹ پاتھ پر بھوکے سونے پر مجبور ہیں۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ راج ناتھ سنگھ بیان دے کر دنیا کو باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ بھی relevant ہیں، جبکہ پاکستان اس وقت الحمدللہ پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور بھارت کو کوئی منہ لگانے کو تیار نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ راج ناتھ جی وقت ہے، اپنی اوقات دیکھ کر بیان دیا کریں۔ خواجہ آصف نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پنگا لیا گیا تو اللہ کے فضل سے پاکستان کی افواج پہلے سے زیادہ ذلت آمیز پھینٹی لگائیں گی

آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ آسٹریلیا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے مقصد کی حمایت کرتا ہے، لیکن اب یہ واضح نہیں کہ مزید کیا اقدامات درکار ہیں یا اس عمل کا حتمی نتیجہ کیا ہونا چاہیے۔
ان کے یہ بیانات نیشنل پریس کلب میں خطاب کے دوران آئے، یہ وہی وقت تھا کے جب امریکی صدر ٹرمپ قوم سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیراعظم سے ٹرمپ کی جانب سے تنازع کے خاتمے کے لیے دیے گئے وقت کے تعین کے بارے میں بھی سوال کیا گیا، جس پر انھوں نے کہا کہ ’آسٹریلیا سے اس کے آغاز سے پہلے کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں نے بہت واضح طور پر کہا ہے کہ ہم تناؤ میں کمی دیکھنا چاہتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ اس بات پر زیادہ وضاحت ہو کہ یہ معاملہ کیسے ختم ہوگا۔‘
ہ بیانات البانیز کے تقریباً 24 گھنٹے قبل کی گئی مختصر تقریر کے بعد سامنے آئے ہیں کہ جس میں انھوں نے آسٹریلوی عوام کو خبردار کیا تھا کہ ’آنے والے مہینے آسان نہیں ہوں گے۔‘
انھوں نے کہا تھا کہ ’آسٹریلیا اس جنگ کا فعال فریق نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود تمام آسٹریلوی اس کے باعث زیادہ قیمتیں ادا کر رہے ہیں۔‘