یونان کے شہر کریٹ کے بعد ریت کا سُرخ طوفان اب مشرقی بحیرۂ روم اور شمالی افریقہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کریٹ پہلے ہی اس سُرخ طوفان کی زد میں آ چکا ہے اوراب یہ طوفان بڑھتے ہوئے مصرف اور لیبیا کی طرف بڑھ رہا ہے۔اس طوفان کو عام طور پر صحارن ڈسٹ اسٹارم کہا جاتا ہے۔ یہ صحارا کے ریگستان سے اٹھنے والی سرخ مٹی ہوتی ہے جو تیز ہواؤں کے ساتھ ہزاروں کلومیٹر تک سفر کرتی ہے۔اس کے ممکنہ اثرات میں فضائی آلودگی میں شدید اضافہ، سانس کے مسائل خاص طور پر دمہ کے مریضوں کیلئے اور نظر کی کمی شامل ہے۔اس طوفان کی غیرمعمولی بات یہ ہوتی ہے کہ اس میں آسمان کا رنگ سرخی مائل نارنجی ہو جاتا ہے۔واضح رہے کہ ایسے طوفان وقتاً فوقتاً آتے رہتے ہیں لیکن بعض اوقات ان کی شدت زیادہ ہو جاتی ہے جس سے وہ یورپ تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔

ایران کی جانب سے اسرائیل کے مختلف شہروں پر میزائل حملوں کی تازہ لہر کے نتیجے میں تل ابیب سمیت متعدد شہروں میں دھماکوں اور نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایک میزائل نے بنی براک کو نشانہ بنایا، جبکہ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ شمالی علاقے گالیلی میں بھی دو راکٹ گرے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تل ابیب، رامت گان اور بنی براک میں میزائلوں کے ملبے گرنے سے متعدد مقامات پر نقصان ہوا، جبکہ صرف تل ابیب میں 11 مختلف جگہوں پر میزائلوں کے ٹکڑے گرے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق بنی براک کے مشرقی علاقے میں کم از کم 3 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
حملوں کے بعد متعلقہ علاقوں میں ایمرجنسی سروسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔

انڈونیشیا کے قریب مولوکا سمندر میں 7.8 شدت کا طاقتور زلزلہ آنے کے بعد سونامی کا الرٹ جاری کر دیا گیا، جس سے پورے خطے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
امریکی جیولاجیکل محکمے کے مطابق زلزلہ شمالی مولوکا سمندر میں ٹرنیٹ کے قریب آیا، جس کی گہرائی تقریباً 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔
امریکی سونامی وارننگ سسٹم نے خبردار کیا ہے کہ زلزلے کے مرکز سے 1000 کلومیٹر کے دائرے میں واقع ساحلی علاقوں جن میں فلپائن اور ملیشیا بھی شامل ہیں، میں خطرناک سونامی لہریں پیدا ہو سکتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق زلزلے کا مرکز ٹرنیٹ شہر سے تقریباً 120 کلومیٹر دور واقع تھا، جہاں دو لاکھ سے زائد افراد آباد ہیں۔ حکام نے ممکنہ خطرے کے پیش نظر ساحلی آبادی کو الرٹ رہنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام بنانے کے لیے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 8 دہشت گرد ہلاک کردیے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یکم اپریل 2026ء کو شمالی وزیرستان کے علاقے میں پاک افغان سرحد کے ساتھ بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت دیکھی گئی۔
سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے خارجیوں کے اس گروہ کو نشانہ بنایا۔ درست اور مہارت سے کی گئی اس کارروائی کے نتیجے میں بھارتی حمایت یافتہ فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 8 خارجی دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
کارروائی کے دوران ہلاک دہشتگردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
اس جھڑپ سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ افغان طالبان حکومت اپنی سرحدی ذمہ داریوں کو مؤثر طریقے سے نبھانے میں ناکام رہی ہے۔ افغان طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں مزید خارجی دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے جبکہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظور کردہ مہم عزم استحکام کے تحت دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے شمالی وزیرِ ستان میں پاک افغان سرحدی علاقے میں فتنۃ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پذیرائی کی ہے۔
انہوں نے کامیاب کارروائی میں 8 خارجیوں کو جہنم رسید کرنے پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مجھ سمیت پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے غیر متزلزل عزم میں افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام کے نام ایک کھلا خط لکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کی امریکی عوام سے کوئی دشمنی نہیں اور نہ ہی ایران ان کے لیے خطرہ ہے۔
ایرانی صدر نے اپنے خط میں کہا کہ ایران کو ایک خطرے کے طور پر پیش کرنا نہ صرف موجودہ حقائق کے منافی ہے بلکہ تاریخی تناظر میں بھی درست نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے اہم انفرااسٹرکچر پر حملے دراصل ملک کو نشانہ بنانے کے مترادف ہیں جن کے اثرات خطے سے باہر تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے حالیہ حملوں کا جواب عزم اور حوصلے کے ساتھ دیا اور اپنی خودمختاری کے دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
صدر پزشکیان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران میں واشنگٹن کے حوالے سے عدم اعتماد کی کئی وجوہات ہیں، جن میں غیر ملکی مداخلت اور غیر انسانی پابندیاں شامل ہیں۔ انہوں نے 1953 کی فوجی بغاوت کو اس عدم اعتماد کی بنیادی وجہ قرار دیا۔
ایرانی صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ حقائق کو درست تناظر میں دیکھا جائے اور عوامی سطح پر بہتر تعلقات کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری کشیدگی میں شدت لانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ چند ہفتے انتہائی اہم ہوں گے اور فوجی کارروائیاں مزید تیز کی جا سکتی ہیں۔
امریکی عوام سے خطاب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایران کے اہم عسکری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور کئی اہم اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
ان کے بقول آپریشن اپنے اہم مراحل طے کر چکا ہے اور اب اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی جانب سے ممکنہ خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس کے اسٹریٹجک عزائم کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مکمل اہداف کے حصول تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے ایران کی توانائی تنصیبات کو بھی ممکنہ ہدف قرار دیا۔
صدرکےخطاب میں ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ عالمی سطح پر برطانوی معیار کا خام تیل برینٹ تقریباً 4 فیصد اضافے کے بعد 105.55 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 3 فیصد اضافے کے ساتھ 103 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ جنگ جاری رکھنے کے اعلان کے بعد ایشیا کی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں مندی دیکھی گئی ہے جہاں سرمایہ کاروں نے حالیہ عالمی حالات اور ٹرمپ کے خطاب کے بعد محتاط رویہ اختیار کر لیا۔
جاپان کی نکی 225 میں 1.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ کوسپی 2.6 فیصد نیچے آ گئی۔ اسی طرح ہانک کانگ کی ہینگ سینگ انڈیکس میں بھی تقریباً 1 فیصد کمی دیکھی گئی۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی نئی حکومت کے صدر نے امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے تاہم آبنائے ہرمز کھلنے پر اس درخواست پر غور کریں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ‘ایران کی نئی حکومت کے صدر اپنے پیش رؤں کے مقابلے میں کم شدت پسند اور کہیں زیادہ ذہین ہے اور اب امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم اس پر اس وقت غور کریں گے جب آبنائے ہرمز کھل جاتی ہے، فری اور محفوظ ہو، اس وقت تک ہم ایران کو مکمل طور پر تہس نہس کر رہے ہیں یا جیسے وہ کہتے ہیں پتھر کے دور میں بھیج دیں گے’۔یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز اور دیگر اہم شخصیات اور شہری شہید ہوئے جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی بیسز اور اسرائیل پر میزئل اور ڈرونز فائر کیے، جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے نام ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز یقیناً دوبارہ کھلے گی، لیکن آپ کے لیے نہیں؛ یہ ان لوگوں کے لیے کھلی رہے گی جو ایران کے نئے قوانین کی تعمیل کریں گے۔‘
اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں عزیزی نے ایران کے 1979 کے انقلاب کے بعد کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’مہمان نوازی کے 47 سال ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے ہیں۔‘
عزیزی کا مزید کہنا ہے کہ ٹرمپ نے بالآخر ’حکومت کی تبدیلی‘ کا اپنا خواب پورا کر لیا ہے لیکن یہ تبدیلی خطے کی سمندری حکومت میں آئی ہے۔
یاد رہے کہ سوموار کے روز ایران کے نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے خبر دی تھی کہ ملک کی قومی سلامتی کمیٹی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

ارومچی میں پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان ایک اہم (سہ فریقی) اجلاس منعقد ہوا جس میں علاقائی امن و استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے دوران چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد سازی اور تعلقات کی بہتری کے لیے ثالثی کا کردار ادا کیا۔چینی حکام نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور تعاون بڑھانے پر زور دیتے ہوئے اس بات کی اہمیت اجاگر کی کہ خطے میں ہم آہنگی اور مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے مثبت اقدامات ناگزیر ہیں۔اجلاس میں سیکیورٹی، سرحدی معاملات اور اقتصادی روابط سمیت اہم امور زیر غور آئے جبکہ شرکا نے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیا۔سہ فریقی ملاقات خطے میں استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران جنگ سے نکلنے کے بیان کے بعد آج پاکستان سمیت دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس میں کاروبار کے دوران تیزی دیکھی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس 7461.58 پوائنٹس اضافے سے 156,204.89 پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔انڈیکس میں 4944 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، ہنڈریڈ انڈیکس نے پانچ حدیں حاصل کرلیں۔ انڈیکس 1 لاکھ 53 ہزار 687 پر دیکھا گیا۔ گذشتہ روز مارکیٹ 148,743 پر بند ہوئی۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری سرگرمیاں ایک گھنٹے کے لیے معطل کردی گئیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے باعث گزشتہ روز نیویارک کی ڈاؤ جونز میں بھی مثبت تیزی دیکھی گئی تھی اور ڈاؤ جونز 2 اعشاریہ 49 فیصد اضافے پر بند ہوا تھا۔اس کے علاوہ ایشیائی مارکیٹ میں بھی کاروبار کے دوران بہت تیزی دیکھنے میں آئی، جاپان کے نکئی میں 9 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا، ہینگ سینگ، نفٹی ففٹی اور یورپی مارکیٹس میں بھی مثبت رجحان دیکھا گیا۔