Blog
امن و امان کا چیلنج خیبرپختونخوا کے 160 ارب روپے وفاق سے طلب، گندم ذخائر کی انکوائری اور پولیس کیلئے نئے پیکیج کا اعلان

پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے سے بدامنی اور دہشتگردی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے، کیونکہ امن کے بغیر معاشی ترقی اور بے روزگاری کا خاتمہ ممکن نہیں۔
پشاور میں مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور اور محمود جان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خیبرپختونخوا آمد پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی زیرصدارت قومی سطح کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، جس میں وفاقی وزرا اور اعلیٰ سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے وفاق سے 160 ارب روپے فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ گندم کے معاملے پر بھی مطالبات پیش کیے گئے ہیں۔ اضاخیل گودام میں گندم کے ذخیرے سے متعلق انکوائری جاری ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا اعلان بھی کیا۔
تجاوزات کے خلاف کارروائی سے متعلق انہوں نے واضح کیا کہ کسی قسم کی سیاسی سفارش قبول نہیں کی جائے گی اور غفلت برتنے والے افسران کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔ سرکاری ملازمین کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گھر بیٹھ کر تنخواہیں لینے کا وقت ختم ہوچکا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے تنخواہوں اور ضروری آلات کی فراہمی سے متعلق پیکیج کا اعلان کرنے کا بھی عندیہ دیا۔ ان کے مطابق پولیس، محکمہ انسداد دہشتگردی اور دیگر متعلقہ اداروں کو ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
پشاور میں ٹریفک کے مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گورنر نے بتایا کہ شہر میں تقریباً ایک لاکھ رکشے چل رہے ہیں، جن میں سے صرف 23 ہزار رجسٹرڈ ہیں۔ غیر رجسٹرڈ رکشوں کے مسئلے سے نمٹنے، ٹریفک قوانین پر عمل درآمد اور عوامی آگاہی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ ہر ڈویژن میں جدید ڈرائیونگ لائسنس مشینیں نصب کی جائیں گی۔
پانی کے منصوبوں کے حوالے سے گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے حصے کا معاملہ وفاق کے سامنے اٹھایا گیا ہے۔ منصوبے کے چھ پیکیجز میں سے متعدد پر کام تکمیل کے قریب ہے، جبکہ پیکیج ون اور فور کے ٹینڈرز اگلے ماہ کیے جائیں گے۔