Pakistan

انصاف کی امید گورنر راج غیر آئینی،عدالت سے انصاف کی امید ہے:بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف کے قائم مقام چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے، جبکہ پارٹی اور اتحادیوں نے مبینہ غیر آئینی اقدامات کے خلاف بھی عدالت سے رجوع کیا ہے۔پشاور ہائیکورٹ میں سماعت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنوں اور حامیوں کے ساتھ مبینہ زیادتیوں، ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی کو اٹھائے جانے، انتخابی نشانات مٹانے اور گھروں پر چھاپوں کے معاملات بھی عدالت کے سامنے رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پہلے دن سے ان اقدامات کو غیر آئینی اور ماورائے آئین قرار دیتی آئی ہے۔ان کے بقول دہشت گردی ملک کے لیے ناسور ہے اور ان کی جماعت نے ہر سطح پر اس کی مذمت کی ہے، تاہم دہشت گردی کی آڑ میں کسی ایک صوبے پر اس کی پشت پناہی کا الزام لگانا ناقابلِ قبول ہے۔بیرسٹر گوہر کے مطابق سماعت کے دوران پی ٹی آئی کی جانب سے سلمان اکرم راجہ اور سمیر کھوسہ پیش ہوئے، جبکہ محمود خان اچکزئی، اختر مینگل، علامہ راجہ ناصر عباس اور صندانہ گلزار سے متعلق درخواستیں بھی اس معاملے میں شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ درخواست گزاروں نے معاملے کی اہمیت کے پیش نظر لارجر بینچ تشکیل دینے اور کیس کی جلد سماعت کی استدعا کی۔بیرسٹر گوہر کے مطابق عدالت نے سماعت کے لیے 10 تاریخ مقرر کی ہے اور انہیں امید ہے کہ معاملے کا جلد فیصلہ ہوگا۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ خیبر پختونخوا پہلے ہی دہشت گردی اور وسائل کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، ایسے میں صوبے کے آئینی مینڈیٹ کو ختم کرنا مزید مشکلات پیدا کرے گا۔انہوں نے دیگر صوبوں اور علاقوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت اس کا آئینی مینڈیٹ تھی، جسے ان کے بقول ختم کیا گیا۔انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ان کی جماعت عدالت میں اپنے موقف کو ثابت کرے گی اور انصاف کی توقع رکھتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *