World

عمران خان کی ہسپتال منتقلی کیس: اٹارنی جنرل طلب وفاقی آئینی عدالت کیسے کیس سن سکتی ہے؟جسٹس شاہد

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی کے کیس میں سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو فوری طلب کر لیا، سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کی ہے کہ عمران خان کی اسپتال منتقلی کا کیس وفاقی آئینی عدالت کیسے سن سکتی ہے؟عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی آئینی عدالت نے کل حکم نامہ جاری کیا ہے، وفاقی آئینی عدالت نے اس مقدمے کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔جسٹس شاہد وحید نے کہا عدالت نے 18 اگست کے آرڈر میں سرکاری افسران کو طلب کیا تھا، لیکن کوئی پیش نہیں ہوا، کیا افسران کا پیش نہ ہونا حکم عدولی نہیں؟ کہیں نہ کہیں کوئی غلط فہمی موجود ہے، علاج سرکاری یا نجی اسپتال میں ہوگا، یہ پوائنٹ فی الحال سائیڈ پر رکھ دیں، کیا ہمارے آرڈر کے باقی حصے پر عمل ہو رہا ہے؟ کیا ملاقاتیں اور بچوں سے بات کرائی گئی؟فاضل جج نے کہا وفاقی آئینی عدالت قرآن و سنت کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی، وفاقی آئینی عدالت صرف آئین کی تشریح کرسکتی ہے، آئین کی تشریح کے علاوہ تمام معاملات سپریم کورٹ کے پاس ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کا شریعت بینچ قرآن و سنت کی تشریح کر سکتا ہے، جس پر جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کیا عدالت آج درخواستیں خارج کر دے یا سماعت نہ کرے؟ کیا ہم آئینی عدالت کے حکم کے پابند ہیں؟اٹارنی جنرل نے کہا آئین کے مطابق آئینی عدالت مقدمات کا ریکارڈ ہی نہیں،کیسز بھی منگوا سکتی ہے، اس بات کا تعین ہونا ہے کہ آئینی عدالت کہاں کہاں سے ریکارڈ منگوا سکتی ہے۔جسٹس شاہد وحید کا کہنا تھا وفاقی آئینی عدالت کے حکم نامے میں لکھا ہےکہ ریکارڈ منگوا کر کیسز مقرر کیے جائیں، وفاقی آئینی عدالت میں کیسز مقرر کرنےکا لفظ ہمیں تنگ کر رہا ہے، اٹارنی جنرل ہماری معاونت کریں کہ وفاقی آئینی عدالت کیسے کیس سن سکتی ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *