فیفا ورلڈکپ: عراقی اسٹرائیکر ایمن حسین سے امریکی حکام کی 7 گھنٹے تفتیش
ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے امریکا پہنچنے والی عراقی قومی فٹبال ٹیم کو ایئرپورٹ پر غیر متوقع صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ شکاگو ائیرپورٹ پر امریکی حکام نے ٹیم کے اہم کھلاڑی ایمن حسین سے تقریباً سات گھنٹے پوچھ گچھ کی، بعد ازاں انہیں ملک میں داخلے کی اجازت دے دی گئی، تاہم ٹیم کے فوٹوگرافر کو امریکا میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
عراقی اولمپک کمیٹی کے ایک عہدیدار کے مطابق عراقی فٹبال ٹیم ہفتے کو امریکا پہنچی تو ٹیم کے فارورڈ کھلاڑی ایمن حسین کو شکاگو کے اوہیئر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر امیگریشن حکام نے روک لیا۔
عہدیدار نے بتایا کہ امریکی حکام نے 30 سالہ ایمن حسین سے تقریباً سات گھنٹے تک پوچھ گچھ کی، جس کے بعد انہیں امریکا میں داخلے کی اجازت دے دی گئی۔ ان کے مطابق دورانِ تفتیش کھلاڑی کے موبائل فون کی بھی تلاشی لی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایمن حسین کے والد عراقی فوج میں افسر تھے جو 2008 میں ایک دہشت گرد حملے میں شہید ہو گئے تھے جب کہ ان کے بھائی کو 2014 میں دہشت گرد تنظیم (داعش) نے اغوا کیا تھا، جس کا سراغ آج تک نہیں مل سکا ہے۔
امریکی حکام نے عراقی ٹیم کے فوٹوگرافر طلال صلاح کو بھی 10 گھنٹے سے زائد وقت تک روک کر رکھا گیا اور موبائل فون کی جانچ پڑتال کی گئی جس کے بعد امریکی حکام نے انہیں امریکا میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔




Leave a Reply
Want to join the discussion?Feel free to contribute!