Blog
قانون سازی پر نظرثانی خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی دور کی قانون سازی پر نظرثانی ،9مئی مقدمات پر کیا اثر پڑے گا؟

ویب ڈیسک: خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں قانون سازی پر نظرثانی اور صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے والے 74 قوانین کا ازسرِنو جائزہ شروع کر دیا گیا ہے۔محکمہ قانون نے اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جسے سات روز میں اپنی سفارشات مجاز اتھارٹی کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق 20 سرکاری محکموں سے متعلق قوانین کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جن میں پراسیکیوشن، یونیورسٹیوں، میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشنز اور صوبائی اسمبلی کے اختیارات و مراعات سے متعلق قانون سازی بھی شامل ہے۔قانون سازی پر نظرثانی میں زیرِ جائزہ قوانین میں خیبرپختونخوا پراسیکیوشن سروس ترمیمی ایکٹ 2025 بھی شامل ہے، جس میں ممکنہ ترامیم یا اسے واپس لینے کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے، اس قانون کی اہمیت 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق مقدمات کے تناظر میں بھی سامنے آتی ہے۔ محکمہ قانون کے مطابق کمیٹی کو 28 فروری 2024 سے 10 اکتوبر 2026 تک صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے والے قوانین کا جائزہ لے کر سات روز کے اندر سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق اس عمل کا مقصد قوانین کی ضرورت، قانونی حیثیت اور انتظامی اثرات کا تعین کرنا ہے۔ بعض قوانین میں ترمیم، انہیں واپس لینے یا سابقہ قانونی صورت بحال کرنے کے امکانات بھی زیرِ غور ہیں۔کمیٹی کے کنوینر ڈائریکٹر جنرل قانون و انسانی حقوق ہوں گے، دیگر ارکان میں محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی سپیشل سیکرٹری شگفتہ نوید، ڈپٹی لیجسلیشن آفیسر مسعود الحسن، متعلقہ انتظامی محکمے کے ایڈیشنل سیکرٹری یا اس سے اعلیٰ رینک کے نمائندے اور محکمہ قانون کے سیکشن آفیسر جنرل شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا پراسیکیوشن سروس (تشکیل، فرائض اور اختیارات) ترمیمی ایکٹ 2025 بھی زیرِ جائزہ قوانین میں شامل ہے۔ اس قانون کے ذریعے پراسیکیوٹرز کے اختیارات میں اضافہ، پولیس کی جانب سے قانونی رہنمائی پر عمل درآمد اور مقدمات سے دستبرداری کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کی گئی تھیں۔قانون کے تحت پراسیکیوٹر کو کمزور شواہد یا قانونی بنیاد نہ ہونے کی صورت میں ملزم کو مقدمے سے فارغ کرنے کی درخواست دینے، قابلِ سمجھوتہ جرائم میں متاثرہ فریق کے مفاد کو مدنظر رکھنے اور بعض حالات میں پراسیکیوشن سے دستبرداری کا اختیار دیا گیا تھا۔دوسری جانب پولیس کو تفتیش کے دوران متعلقہ پراسیکیوٹر سے قانونی رائے حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کا پابند بنایا گیا تھا، قانونی رہنمائی پر عمل نہ کرنے کی صورت میں پولیس ایکٹ 2017 کے تحت اسے مس کنڈکٹ قرار دینے کی گنجائش بھی رکھی گئی تھی۔ذرائع کے مطابق اب اس قانون کو واپس لینے یا اس میں ترامیم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے