Blog
ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافہ ٹیکس فائلرز 45 فیصد بڑھ کر 57 لاکھ سے تجاوز کر گئے

حکومتی کارکردگی میں اہم پیشرفت، ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکس فائلرز 45 فیصد بڑھ کر 57 لاکھ سے تجاوز کر گئے، مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی معیشت، ڈیجیٹل ادائیگیوں، ٹیکس وصولیوں اور کاروباری رجسٹریشن کے شعبوں میں پیش رفت ریکارڈ کی گئی ہے۔وفاقی مشیر برائے اقتصادی و مالیاتی اصلاحات خرم شہزاد کے مطابق انکم ٹیکس فائلرز کی تعداد 45 فیصد اضافے کے ساتھ 57 لاکھ 70 ہزار ہو گئی، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیکس وصولیاں 7 فیصد بڑھ کر 3.1 ٹریلین روپے تک پہنچ گئیں۔حکومتی کارکردگی کے جائزے کے مطابق ہاؤسنگ فنانس، الیکٹرک گاڑیوں، ٹارگٹڈ فیول ریلیف اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبوں میں بھی مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔خرم شہزاد کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں گزشتہ تقابلی مدت کے مقابلے میں 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور مجموعی وصولیاں 3.1 ٹریلین روپے رہیں۔ ان کے مطابق یہ وصولیاں پہلی سہ ماہی کے مقررہ ہدف سے زیادہ ہیں۔اسی عرصے میں انکم ٹیکس فائلرز کی تعداد 45 فیصد اضافے کے بعد 5.77 ملین تک پہنچ گئی، جبکہ نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔سرکاری جائزے کے مطابق مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 15,440 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جو گزشتہ تقابلی مدت کے مقابلے میں 45 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ ان میں سے 99.9 فیصد کمپنیوں کی رجسٹریشن ڈیجیٹل طریقے سے کی گئی۔حکومت ٹیکس نظام میں شفافیت اور بہتری کے لیے قومی فیس لیس سینٹر، خطرے کی بنیاد پر ٹیکس انتظامیہ، آئی آر آئی ایس 3.0، مصنوعی ذہانت اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سے بھی کام لے رہی ہے۔خرم شہزاد کے مطابق ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی کے اقدامات کے نتیجے میں ریٹیل ادائیگیوں کے حجم میں ڈیجیٹل لین دین کا حصہ 92 فیصد ہو چکا ہے۔ جائزے میں 13.2 ارب لین دین ریکارڈ ہونے اور اس میں 65 فیصد اضافے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔راست اور کیو آر کوڈ ادائیگیوں کے نظام کو ملک بھر میں وسعت دی جا رہی ہے، جبکہ حکومتی ادائیگیوں کی قبولیت میں ڈیجیٹل طریقوں کا حصہ 75 فیصد تک پہنچ چکا ہے