Blog
پاکستانی مکئی عالمی منڈی میں 15 فیصد تک سستی فروخت ہونے کا انکشاف ناقص اسٹوریج اور زیادہ نمی کے باعث معیار متاثر

کراچی: پاکستان میں پیدا ہونے والی غیر جینیاتی ترمیم شدہ یعنی نان جی ایم او مکئی عالمی منڈی میں اپنی اصل قدر سے کم قیمت پر فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
زرعی اجناس کے برآمدی ادارے لوئس ڈریفس کمپنی کے مطابق پاکستانی مکئی کا معیار عالمی سطح پر بہتر قیمت حاصل کرسکتا ہے، تاہم فصل کی کٹائی کے بعد مناسب خشک نہ ہونے، زیادہ نمی، کثافت اور ناقص اسٹوریج کے باعث اسے عالمی مارکیٹ میں 10 سے 15 فیصد کم قیمت پر فروخت کرنا پڑتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مسئلہ مکئی کے معیار سے زیادہ کٹائی کے بعد اس کی دیکھ بھال، ذخیرہ اور ترسیل کے نظام کا ہے۔ اگر مکئی کو بروقت خشک کرکے معیاری گوداموں میں محفوظ کیا جائے تو اس کا معیار برقرار رکھتے ہوئے عالمی منڈی میں بہتر قیمت حاصل کی جاسکتی ہے۔
لوئس ڈریفس کمپنی نے ملتان کے قریب 40 ہزار ٹن گنجائش کی سائیلج اسٹوریج بھی قائم کی ہے، جہاں گندم، مکئی اور چاول سمیت مختلف اجناس کو عالمی معیار کے مطابق محفوظ کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر اسٹوریج اور لاجسٹکس کے نظام سے فصل کے ضیاع میں کمی، برآمدات میں اضافہ اور پاکستان کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔