Pakistan

اسلام آباد کی 27 رکنی اسمبلی،وزیراعلیٰ چیف ایگزیکٹو ہوگا اسلام آباد حکومت کے ماتحت 27 محکمے رکھنے کی تجویز

وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی نظام کے لیے قائم کمیٹی نے نیا نظام متعارف کرانے کی تجاویز دی ہیں، جس کے تحت اسلام آباد کی 27 رکنی اسمبلی بنانے اور چیف ایگزیکٹیو کے لیے وزیراعلیٰ یا میئر کے عہدے کی تجویز دی ہے۔اسلام آباد میں مقامی حکومتوں سے متعلق آرڈیننس کی مدت معیاد ختم ہوگئی اور 9 جنوری 2026 کو جاری ہوئے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کو نافذ ہوئے 240گزر گئے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے بجائے نیانظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس 11 ستمبر کے 21ستمبر کو بلائے جانے پر غور کیا جا رہا ہے اور اسمبلی اجلاس میں تاخیر سے اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کا آرڈنینس خودبخود ختم ہوجائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی نے اسلام آباد میں نئے نظام کی سفارشات تیار کرلی ہیں، جس کے تحت وفاقی دارالحکومت کی اپنی 27 رکنی اسمبلی ہوگی، 27 رکنی اسمبلی میں 21 ارکان براہ راست عوام کے ووٹ سے منتخب کرنے، خواتین کے لیے 5 مخصوص نشستیں اور اقلیتوں کے لیے ایک نشست مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد کا اپنا منتخب چیف ایگزیکٹو ہوگا، جس کے لیے وزیراعلیٰ یا میئر کے عہدے کی تجویز سامنے آ گئی ہے، وزیراعلیٰ یا میئر منتخب اسمبلی کے سامنے جواب دہ ہوگا۔کمیٹی کی تجاویز کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد حکومت کے ماتحت 27 انتظامی محکمے صحت، تعلیم، ماحولیات اور شہری سہولیات رکھنے کی سفارش کی گئی ہے، اسی طرح قانون و امن اور اسلام آباد کی ماسٹر پلاننگ وفاق کے پاس رکھنے کی تجویز ہے۔ذرائع نے بتایا کہ دیگر انتظامی معاملات منتخب حکومت کے حوالے کرنے کا منصوبہ ہے، کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سمیت مختلف اداروں کے اختیارات ازسرنو ترتیب دینے کی تیاری کی جائے گی، قومی اسمبلی کے ہر حلقے سے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اسمبلی کی 7 نشستیں قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔مجوزہ ڈرافٹ کے مطابق اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اسمبلی کے ہر رکن پر آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق ہوگا، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اسمبلی کے انتخابات الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تحت منعقد ہوں گے

Newer
خاتون ٹی وی میزبان سمیت 12 افراد کو سزائے موت سارہ خلیفہ کا فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان مصر کی عدالت نے مشہور ٹی وی میزبان ساراہ خلیفہ اور دیگر 11 افراد کو منشیات کے مقدمے میں سزائے موت سنا دی ہے۔غیرملکی میڈیا نے مصر کے سرکاری اخبار کے حوالے سے بتایا کہ ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ اور سزائے موت پانے والے دیگر افراد کریمنل گینگ کا حصہ تھے جو منشیات میں استعمال ہونے والی اشیا فروخت کرنے کے لیے درآمد کرتے تھے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کے پاس غیرقانونی آتشیں اسلحہ اور بارود بھی تھا۔مصر کی 39 سالہ ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ مشہور ٹی وی پروگرام مشن ایمپوسیبل کی میزبانی کرتی تھیں، جس میں جرائم کے معاملات پر پروگرام پیش کیے جاتے تھے، جبکہ میزبان نے الزامات کی تردید کی ہے۔اس کیس میں ٹی وی میزبان کے ساتھ نامزد دیگر 9 ملزمان کو عمر قید جبکہ 7 افراد کو بری کردیا گیا۔سارہ خلیفہ کے وکیل نے بتایا کہ وہ اس سزا کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس فیصلے کا اعلان گزشتہ ماہ کے شروع میں ہوا تھا تاہم ایک ماہ بعد اس کی تصدیق کردی گئی ہے، جس کے لیے عدالت نے مصر کے مفتی اعظم سے شرعی رائے حاصل کی، جو مصر میں سزائے موت کے مقدمات میں قانونی طور پر لازمی ہے۔مقدمے کے حوالے سے بتایا گیا کہ ٹرائل کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ حکام نے ملزمان کے قبضے سے 750 کلو گرام منشیات اور درآمد شدہ خام اشیا حاصل کیں۔عدالت میں 20 گواہوں نے بیانات دیے، اس کے علاوہ گفتگو اور ویڈیو کلپس سمیت الیکٹرونک ثبوت بھی جمع کرایے گئے۔مصر کے سرکاری میڈیا کے مطابق جب جج نے ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ سے گزشتہ سال ستمبر میں آخری سماعت میں مقدمے میں ان کے کردار سے متعلق پوچھا تھا، جس پر انہوں نے کہا تھا کہ میں نے اس وقت تک منشیات دیکھی بھی نہیں تھی جب تک اینٹی نارکوٹکس حکام کے دفتر کے اندر منشیات کے ساتھ میری تصویر نہیں بنائی گئی تھی۔
Back to list

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *