Blog
بادشاہ کی آخری رسومات کے دو دن بعد ناروے کی شہزادی آسٹرڈ بھی چل بسیں 94 سالہ شہزادی کی سرکاری اخراجات پر تدفین ہوگی

اوسلو: ناروے کی شہزادی آسٹرڈ 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ وہ آنجہانی بادشاہ ہیرالڈ پنجم کی بہن تھیں اور اپنے بھائی کی آخری رسومات میں شرکت کے صرف دو روز بعد دنیا سے رخصت ہوئیں۔
ناروے کے شاہی محل نے شہزادی آسٹرڈ کے انتقال کی تصدیق کردی ہے۔ نئے بادشاہ ہاکون ہشتم نے شہزادی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی طویل زندگی کے دوران شاہی خاندان کی خدمت ذمہ داری اور فرض شناسی کے ساتھ انجام دی۔
بادشاہ ہیرالڈ گزشتہ ماہ 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے اور 35 برس سے زائد عرصے تک ناروے کے بادشاہ رہے۔ ان کی آخری رسومات گزشتہ بدھ کو ادا کی گئی تھیں، جن میں شہزادی آسٹرڈ نے بھی شرکت کی تھی۔
ناروے کے وزیراعظم جوناس گار ستورے کے مطابق شہزادی آسٹرڈ کی تدفین سرکاری اخراجات پر کی جائے گی، جبکہ ان کے احترام میں ملک بھر میں قومی پرچم سرنگوں رکھے جائیں گے۔
شہزادی آسٹرڈ ناروے کے آنجہانی بادشاہ اولاف پنجم کی آخری زندہ اولاد تھیں۔ 1954 میں ان کی والدہ ولی عہد شہزادی مارٹھا کے انتقال کے بعد انہوں نے 22 برس کی عمر میں ناروے کی خاتون اول کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور 1968 میں اپنے بھائی ہیرالڈ کی شادی تک یہ کردار ادا کرتی رہیں۔
شہزادی آسٹرڈ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ عوامی اور فلاحی سرگرمیوں میں گزارا۔ معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند افراد کی مدد اور انہیں برابر مقام دلانا ان کی خدمات کا اہم حصہ تھا۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران شہزادی کی صحت خراب رہی تھی اور مارچ میں انہیں نمونیا کے علاج کے لیے اسپتال میں بھی داخل کیا گیا تھا۔ ان کی طویل عوامی خدمات کے باعث ناروے میں ان کی وفات کو اہم قومی واقعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔