Blog
بنوں: پولیس امن کمیٹی کا احتجاج تیسرے روز میں داخل اہم شاہراہیں بند،شہریوں، مسافروں اور ٹریفک کی روانی شدید متاثر

ویب ڈیسک: خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس امن کمیٹی کا احتجاج تیسرے روز میں داخل ہو گیا، ضلعی پولیس قیادت سے کشیدگی بھی برقرار ہے۔ احتجاج کے باعث شہر کی اہم شاہراہیں اور داخلی و خارجی راستے بدستور بند ہیں، جس سے شہریوں، مسافروں اور ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے۔احتجاج کی وجہ سے شاہراہیں بند ہیں جس کی وجہ سے معمولاتِ زندگی متاثر رہیں، شہریوں اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، احتجاج کے باعث ضلع بھر میں پولیس سرگرمیاں بھی متاثر رہیں۔ذرائع کے مطابق ضلعی بنوں میں جاری احتجاج کے دوران ڈی آئی جی اور ڈی پی او دفاتر عارضی طور پر بند رہے، جبکہ پولیس امن کمیٹی نے بعض پولیس افسران کی سرکاری گاڑیاں بھی تحویل میں لے لیں۔پولیس امن کمیٹی صدر حضرت عمر نے کہا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے تبادلوں پر تحفظات ہیں، بنوں کے اہلکاروں کو دیگر اضلاع سے واپس تعینات کیا جائے، اس دوران انہوں نے ایس پی رورل سمیت ڈی ایس پی کینٹ اور بعض ایس ایچ اوز کے تبادلوں کا بھی مطالبہ کیا۔احتجاج کے دوران کمیٹی صدر نے اعلان کیا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں احتجاج مزید وسیع کیا جائیگا۔ یاد رہے کہ لکی مروت پولیس امن کمیٹی بھی احتجاج میں شریک رہی، جس سے احتجاج کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ملک دلنواز خان کے مطابق پولیس لائن میں پولیس امن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، اور اس کے کامیاب ہونے کی امید ہے، تاہم اس دوران پولیس قیادت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔