Pakistan

بیرسٹرگوہر نے ’’عمران خان ریلیز فورس‘‘ بنانے سے انکار کیا تھا سہیل آفریدی کی حمایت کے باوجود بیرسٹرگوہر نے فورس کی منظوری نہیں دی تھی

اسلام آباد: اگرچہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے آئینی عدالت کو بتایا ہے کہ مجوزہ ’’عمران خان ریلیز فورس‘‘ کبھی تشکیل ہی نہیں دی گئی، تاہم حقیقت یہ ہے کہ وہ اس فورس کے قیام کیلئے سرگرم انداز میں کوشش کرنے والوں میں شامل تھے۔ تاہم، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے مجوزہ تنظیم کی منظوری دی اور نہ ہی اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی اجازت دی، جس کے باعث یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا۔ اس اقدام کو پی ٹی آئی کی قیادت کے ایک حلقے، جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی شامل تھے، کی بھرپور حمایت حاصل تھی، لیکن بالآخر پارٹی چیئرمین کی دوٹوک مخالفت کے بعد اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا نہ جا سکا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، اس فورس کے قیام کیلئے وزیراعلیٰ کے پی پُرعزم تھے اور انہوں نے کھل کر اعلان بھی کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کی مہم کے سلسلے میں رضاکاروں کو منظم کیا جائے گا، ان کی رجسٹریشن کی جائے گی اور ان سے حلف لیا جائے گا۔ تاہم، یہ تجویز کبھی بھی باضابطہ طور پر باضابطہ تنظیم کی شکل اختیار نہ کر سکی کیونکہ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اسے منظوری دینے سے واضح طور پر انکار کر دیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ اس نوعیت کی فورس کا قیام غیر آئینی اور غیر قانونی ہوگا۔

Newer
امریکی قیادت میں ایران پالیسی پر اختلاف، ٹرمپ دباؤ میں وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون ایران کے خلاف جنگ بڑھانے پر متفق نہ ہو سکے، حتمی فیصلہ صدر ٹرمپ کریں گے۔ واشنگٹن: ایران کے خلاف ممکنہ فوجی حکمت عملی پر امریکی عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے اعلیٰ حکام جنگ کو مزید وسعت دینے یا محدود رکھنے پر مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کے حامی ہیں، جبکہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ محتاط حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اختلافات کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور اب انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں موجودہ سطح پر رکھی جائیں یا مزید وسعت دی جائے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ ایران کے حالیہ حملوں پر سخت ردعمل دینے کا عندیہ دے چکے ہیں۔
Back to list

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *