بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے پاکستان مخالف غیر مہذب بیان پر بھارت میں کڑی تنقید ہوئی ہے اور غیر سفارتی زبان اور پالیسی پر سوالات اٹھادیے گئے۔اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کو پاکستان مخالف حالیہ غیر مہذب بیان پر شدید ردعمل کا سامنا ہے، یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان، امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔بھارتی وزیر خارجہ کے بیان پر بھارتی اپوزیشن رہنماؤں نے بی جے پی اور مودی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ترجمان بھارتی کانگریس ڈاکٹر شمّع محمد نے نازیبا بیان کو سفارتی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے منتخب کیا جانا اور بھارت کا باہر رہنا مودی حکومت کی ناکامی ہے۔کانگریسی ممبر سپرِیا شری نیتے نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں ثالثی کی پیشکش یا جنگ رکوانے کے بھارتی دعویٰ کو کیا نام دیا جائے؟ اس پر کانگریسی ممبر پون کھیرا نے کہا کہ مودی کی روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی کوشش کے وقت کیا بھارت ایک بروکر ملک نہیں تھا؟بھارتی تجزیہ نگار اشوک سوائن نے کہا ہے کہ جے شنکر کے نازیبا الفاظ محض سڑک کی زبان ہے، کسی وزیر خارجہ کے شایانِ شان نہیں۔عالمی ماہرین کے مطابق جے شنکر کا حالیہ بیان اپریل 2022ء میں روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی خواہش والے بیان سے یکسر متصادم ہے، جے شنکر کا غیر سفارتی بیان ہزیمت چھپانے کا ایک دفاعی ردعمل ہے، حالیہ خلیجی بحران میں بھارت کو مرکزی کردار نہ ملنا بھارت کی سفارتی ناکامی ہے، بھارتی وزیر خارجہ کے بیان نےنام نہاد امن کے دعوے داربھارت کی سفارتی ساکھ اور سنجیدگی پر سوالات اٹھا دیے

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال سے متعلق غیر ضروری قیاس آرائیوں کی تردید کی ہے۔سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات سے متعلق میڈیا میں موجود غیر ضروری قیاس آرائیوں کی تردید کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس اہم عمل میں ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جہاں فریقین کے مابین پیغامات پہنچائے جا رہے ہیں اور اس تناظر میں امریکا نے 15 نکات پیش کیے ہیں جن پر ایران غور کر رہا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اس امن اقدام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے برادر اسلامی ممالک ترکیہ اور مصر سمیت دیگر ریاستیں بھی بھرپور تعاون فراہم کر رہی ہیں تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کو جلد از جلد ختم کیا جا سکے۔اپنے پیغام میں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے اپنے عزم پر سختی سے کاربند ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے لیے پرعزم بھی ہے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ موجودہ پیچیدہ حالات میں مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور جاری تنازعات کو حل کیا جا سکتا ہے۔

ریاض: خلیجی خطے میں ایک طاقتور طوفان کی پیش رفت نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جہاں ماہرین موسمیات نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں شدید موسمی حالات کی پیش گوئی کی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں تیز بارش، شدید آندھی اور گرد آلود ہواؤں کا امکان ہے، جبکہ ہوا کی رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہفتے کے اختتام تک مختلف علاقے شدید بارشوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حدِ نگاہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ ساحلی علاقوں میں سمندری لہریں بھی خطرناک حد تک بلند ہو سکتی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر لہروں کی اونچائی 2.5 میٹر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے، جس سے ساحلی علاقوں میں خطرات بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب امارات میں بھی طوفانی بارشوں کے باعث شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کئی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہونے کا خدشہ ہے، جس کے پیش نظر شہریوں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا شروع کر دی ہیں۔ لوگ ریت کی بوریاں خرید رہے ہیں اور پلاسٹک شیٹس کے ذریعے گھروں کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ادھر اماراتی محکمہ اوقاف نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ شدید بارش کے دوران گھروں میں ہی نماز ادا کریں۔ حکام نے مساجد کے آئمہ کرام کو بھی ہدایت کی ہے کہ اذان کے بعد لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اعلان کریں تاکہ لوگ غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں۔
مزید ہدایت میں کہا گیا ہے کہ جہاں مساجد میں نماز ادا کی جا رہی ہو وہاں موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کر کے ادا کی جائیں، اسی طرح مغرب اور عشاء کی نمازیں بھی اکٹھی پڑھی جائیں تاکہ شہریوں کو مشکلات سے بچایا جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تقریب سے خطاب میں ایران، عالمی سیاست اور داخلی معاملات پر سخت بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیک نیوز ایسا تاثر دے رہی ہے جیسے امریکا جنگ ہار رہا ہو حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
اپنے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا نے دنیا میں 8 جنگیں ختم کرائیں جبکہ ایک جنگ جیتنے کے قریب ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اب مذاکرات چاہتا ہے اور بےتابی سے ڈیل کی کوشش کر رہا ہے تاہم کھل کر بات کرنے سے گریزاں ہے۔
امریکی صدر نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایرانی قیادت نے ڈیل سے انکار کیا تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے جبکہ ڈیل کی صورت میں بھی داخلی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی نیوی اور فضائیہ کو تباہ کر دیا ہے اور اس کے پاس اب کچھ نہیں بچا تاہم فیک نیوز اس کے برعکس تصویر پیش کر رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے 100 میزائلوں کو ناکام بنایا جو اہم اہداف کی طرف بڑھ رہے تھے۔
خطاب میں انہوں نے سابق صدور باراک اوباما اور جو بائیڈن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کی پالیسیوں نے امریکا کو نقصان پہنچایا۔
امریکی صدر نے کہا کہ بی 2 بمبار طیاروں نے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا اور ایران کی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ایرانی فوجی قیادت کو شدید دھچکا پہنچا۔
داخلی معاملات پر بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایئرپورٹس پر امیگریشن حکام کی تعیناتی سے پروازوں میں تاخیر کا مسئلہ حل کیا گیا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر نیشنل گارڈز بھی تعینات کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے ڈیموکریٹ پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ شٹ ڈاؤن کے باعث ایئرپورٹس متاثر ہوئے اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کو فنڈنگ نہ ملنے سے ٹی ایس اے عملہ چھٹیوں پر چلا گیا۔
اختتام پر انہوں نے آئندہ مڈٹرم انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی کا دعویٰ بھی کیا۔
واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے مذاکرات کررہےہیں، ایران بڑی بے تابی سے ڈیل چاہتا ہےلیکن بولنے سے ڈر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت ڈیل کا کہے گی تو اپنے عوام کے ہاتھوں مرے گی، انھیں ہمارے ہاتھوں مرنے کا بھی ڈر ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ دنیا میں 8 جنگیں رکوائیں، ایک اور جنگ بھی جیت رہےہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو ختم کردیا مگر فیک نیوز کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ ہم جنگ ہاررہے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل نے ممکنہ امن مذاکرات کے پیش نظر ایران کے دو اہم عہدیداروں کو عارضی طور پر ٹارگٹ لسٹ سے نکال دیا ہے۔ اس اقدام کو خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کا نام 4 سے 5 دن کے لیے اس فہرست سے ہٹایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکی، پاکستان اور مصر سمیت مختلف ممالک کے ثالث امریکا اور ایران کو فوری مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ پہلے جنگ بندی ممکن ہو سکے اور اس کے بعد باضابطہ مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے۔
تاہم حکام کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان شرائط میں بڑے اختلافات موجود ہیں، جس کے باعث ان مذاکرات کی کامیابی کے امکانات فی الحال محدود دکھائی دیتے ہیں۔
ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ
ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
بدھ کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ دوست ممالک نے امریکی تجاویز بھجوائی ہیں، تاہم یہ کوئی مذاکرات یا گفت و شنید نہیں ہے۔
بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ ایران کے رہنما یہ تسلیم کرنے سے ’ڈرتے‘ ہیں کہ وہ بات چیت کر رہے ہیں۔
اس دوران برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 1٫6 فیصد اضافے کے ساتھ 103٫85 ڈالرز تک پہنچ گئی ہے۔ جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 1.4 فیصد اضافے کے ساتھ 91.61 ڈالر پر کی سطح پر ہے
افغان فنکاروں کی جانب سے پاکستان میں ویزے اور قیام کے لیے دائر کیس میں پشاور ہائی کورٹ نے فنکاروں کو وزرات داخلہ سے رجوع کرنے کا حکم دے دیا۔
پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس وقار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ 109 افغان فنکاروں نے پاکستان میں قیام کے لیے درخواست دی ہے۔
وکیل درخواست گزار کے مطابق افغانستان میں اس وقت جو حالات ہیں وہاں پر موسیقی کاروں کو جان کا خطرہ ہے۔ فنکار اس وجہ سے افغانستان واپس نہیں جا سکتے۔ عدالت نے درخواست گزاروں کو وزارت داخلہ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔
ایران کی فوجی قیادت نے امریکی صدر ٹرمپ کے مذاکرات سے متعلق دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
ایران کے مرکزی فوجی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراھیم زلفغاری نے ایک بیان میں امریکا کو سخت پیغام دیا۔
ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق زلفغاری نے امریکی دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کیا امریکا کے اندرونی اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ وہ خود ہی اپنے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ اپنی ناکامی کو معاہدے کا نام نہ دیا جائے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ جب تک ایران کی مرضی پوری نہیں ہوتی، نہ تو تیل کی قیمتیں سابق سطح پر واپس آئیں گی اور نہ ہی خطے میں پہلے جیسا نظام بحال ہوگا۔
انہوں نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کا خیال مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔
زلفغاری نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایران کا مؤقف شروع سے واضح ہے اور آئندہ بھی رہے گا کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی صورت مفاہمت نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم جیسے لوگ تم جیسے لوگوں کے ساتھ کبھی نہیں چل سکتے، نہ اب اور نہ ہی آئندہ کبھی۔‘
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے متضاد دعوے گردش کر رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
پاکستان اور برطانیہ میں رہنے والے ہم وطنوں کے لیے پی آئی اے کا 6 سال بعد لندن کے لیے براہ راست فلائٹ آپریشن رواں ماہ بحال ہوگا۔ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی آئی اے کی اسلام آباد سے ہفتہ وار تین اور لاہور سے ایک پرواز آپریٹ ہوگی۔ پی آئی اے لندن کے فضائی آپریشن کے لیے بوئنگ 777 طیارے استعمال کرے گی۔پی آئی اے لندن کے لیے پروازیں ہیتھرو ایئر پورٹ کے ٹرمینل 4 پر لینڈ کریں گی، چھ سال کے وقفے کے بعد پروازوں کا آغاز کیا جا رہا ہے۔پی آئی اے 29 مارچ کو اسلام آباد سے لندن اور 30 مارچ سے لاہور سے لندن کی پروازوں کو چلائے گی۔ پی آئی اے ابتدائی طور پر ہفتہ وار چار پروازیں لندن کے لیے آپریٹ کرے گی۔ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی آئی اے کا لندن روٹ سے 70 سال سے زائد کا رشتہ ہے، لندن پی آئی اے کے نیٹ ورک کے ابتدائی بین لاقوامی روٹس میں شامل ہے۔ان پروازوں کی شروعات کے بعد برطانیہ کے لیے پی آئی اے کی پروازوں کی ہفتہ وار تعداد 7 ہو جائے گی۔واضح رہے کہ 2020 میں پابندی سے قبل پی آئی اے پاکستان سے لندن کے لیے ہفتہ وار 10 پروازیں چلا رہی تھی۔
لندن کے لئے پروازوں میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔