Blog
آیت نور کیس ضمانت پر رہا کم عمر لڑکے کا پولیس اہلکاروں پر زیادتی کا الزام

ویب ڈیسک: آیت نور کیس میں ضمانت پر رہا ہونے والے کم عمر لڑکے نے پولیس اہلکاروں پر دورانِ حراست مبینہ جنسی زیادتی اور بدسلوکی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔لڑکے کی جانب سے مبینہ واقعات کے حوالے سے ڈی پی او ہری پور کو درخواست بھی دی گئی ہے۔لڑکے کے مطابق مبینہ واقعات ٹی آئی پی تھانے اور تھانہ صدر میں پیش آئے، جہاں اسے مبینہ طور پر جسمانی اور جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مبینہ واقعات میں ملوث اہلکاروں کو سامنے آنے پر شناخت کر سکتا ہے۔درخواست گزار لڑکے نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹی آئی پی تھانے میں وقاص عرف وکی اور محرر سلیمان نے اس کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کی، جبکہ تھانہ صدر میں بھی اسی نوعیت کی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔لڑکے نے اپنی درخواست میں الزام لگایا ہے کہ مبینہ واقعات ایس پی ثمینہ ظفر، ڈی ایس پی تنویر اور ایس ایچ او شہریار کی موجودگی میں پیش آئے، تاہم ان افسران کے خلاف عائد الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی اور ان کا مؤقف بھی سامنے آنا باقی ہے۔مبینہ طور پر ملوث اہلکاروں اور افسران کے خلاف کارروائی کے لیے ڈی پی او ہری پور کو درخواست دی گئی ہے۔ معاملے میں شفاف تحقیقات، متعلقہ اہلکاروں کا مؤقف اور دستیاب شواہد اہمیت رکھتے ہیں۔