World

برکس اجلاس، خلیجی تنازع مرکزی اختلاف بننے کا امکان شی جن پنگ کی بھارت آمد، عالمی تنازعات کے باعث اجلاس کی اہمیت پر سوالات

نئی دہلی: چینی صدر شی جن پنگ برکس کے دو روزہ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی پہنچ گئے ہیں، تاہم عالمی تجارت، توانائی کے بحران اور مشرق وسطیٰ و یوکرین میں جاری جنگوں کے باعث اجلاس کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔
چینی صدر کی 2019 کے بعد بھارت آمد کو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دورہ 2020 میں سرحدی علاقے میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان ہونے والے پرتشدد تصادم کے بعد پہلی اہم پیش رفت ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق چین بھارت کے ساتھ رابطے مضبوط بنانے، تعاون بڑھانے اور اختلافات کو مناسب طریقے سے حل کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔
اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ ایرانی صدر نے امریکی اور اسرائیلی عسکری کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر دباؤ انتہائی حساس اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔
ماہرین کے مطابق برکس اجلاس میں خلیجی تنازع سب سے اہم اختلافی معاملہ بن سکتا ہے۔ تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان مشرق وسطیٰ، یوکرین، توانائی اور عالمی تجارت سمیت مختلف معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت ایک جانب امریکا، روس اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے روسی تیل پر انحصار بھی بڑھا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *