Pakistan

حکومت کو سرکاری ہسپتال نہیں چلانے چاہییں،مصطفی کمال 210 ارب میں عوام کو یونیورسل ہیلتھ فیسیلٹی دی جاسکتی ہے،وفاقی وزیر

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ حکومت کو سرکاری اسپتال نہیں چلانے چاہییں، بددعاؤں کے سوا ملتا ہی کیا ہے؟۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی ایک آزاد ادارہ ہے ، اس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں۔ رکن کمیٹی روبینہ خالد نے کہا کہ ہمیں صرف یہ بتائیں کہ آئی ایچ آر اے نے آخری دفعہ کب پمز کو انسپکٹ کیا تھا۔ سرکاریخدمات ڈھونڈیںمصطفیٰ کمال نے کہا کہ پمز میں نظام گل سڑ چکا ہے ، ہم یہاں کچھ ٹھیک نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ آپ یہاں کسی آفس بوائے تک کو نہیں ہٹا سکتے۔ پمز میں مارکیٹ سے کوئی ہیڈ لایا جائے، پرفارمنس کی بنیاد پر رکھا جائے اور سی ای او کے پاس اختیارات ہوں۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پمز آرڈیننس کے تحت یہاں باہر سے تعیناتیاں نہیں کرسکتے۔ یہاں ریڈیکل ریفارم لانے کی ضرورت ہے۔ بنیادی طور پر پمز کو ایک جاگیر بنا دیا گیا ہے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان کی رائے ہے کہ حکومت کو سرکاری اسپتال چلانے ہی نہیں چاہییں ، ان اسپتالوں میں ریگولر ملازم ہونے ہی نہیں چاہییں۔ انہوں نے بتایا کہ آج ملک کا ہیلتھ بجٹ 1556 ارب ہے، اس کے بدلے ہمیں بدعاؤں کے سوا ملتا ہی کیا ہے۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ انہوں نے ریسرچ کرائی ہے ۔ 210 ارب روپے کے بجٹ میں ملک بھر کے عوام کو یونیورسل ہیلتھ فیسیلٹی دی جاسکتی ہے۔ آج اگر ایک ہزار اسپتال ہیں تو اس میں 5 ہزار مزید اسپتال اس سسٹم میں ایڈ ہوجائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *