Blog
سانحہ پمز، لواحقین کے لیے 50،50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان ضمنی ،مالی معاونت غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں مداوا ہے، حکومت

حکومت پاکستان کی جانب سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتشزدگی کے المناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے نومولود بچوں کے لواحقین کے لیے فی کس 50 لاکھ روپے مالی معاوضے کا اعلان کیا گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت متاثرہ خاندانوں کے غم اور دکھ میں برابر کی شریک ہے، مالی معاوضے سے قیمتی انسانی جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں، جاں بحق ہونے والے بچے واپس نہیں لائے جا سکتے۔
حکومت کی جانب سے یہ معاونت غمزدہ خاندانوں کی مشکلات کم کرنے اور ان کے دکھ میں کچھ مداوا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ترجمان حکومت کا کہنا ہے کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون اور معاونت فراہم کرے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز 26 اگست 2026 کو اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی نرسری میں آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے جب کہ ایک بچہ زندہ بچایا گیا تھا۔
واقعے کے بعد آگ لگنے کی وجہ اور اسپتال کے حفاظتی انتظامات سے متعلق مختلف سوالات اٹھے، ابتدائی طور پر ایئرکنڈیشننگ یونٹ میں دھماکے کو آگ کی وجہ بتایا گیا جب کہ پمز کی ابتدائی رپورٹ میں نیبولائزر سے متعلق دھماکے اور نرسری میں زیادہ آکسیجن کے باعث آگ تیزی سے پھیلنے کا ذکر سامنے آیا، حتمی وجہ کا تعین تحقیقاتی کمیٹی کرے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے سابق وفاقی سیکرٹری شاہد خان کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی۔ کمیٹی کو آگ لگنے کی وجہ، ہنگامی صورت حال میں اسپتال کے عملے اور متعلقہ اداروں کے ردعمل، نومولود بچوں کے انخلا کے طریقہ کار، فائر سیفٹی انتظامات اور ممکنہ غفلت کا تعین کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ کمیٹی کو ابتدائی رپورٹ 48 گھنٹوں جب کہ جامع رپورٹ 5 روز میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سانحے کے بعد صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے جاں بحق بچوں کے اہلخانہ سے تعزیت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے تعین اور قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کی جب کہ اسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ہنگامی حفاظتی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
واقعے پر سول سوسائٹی اور متاثرہ خاندانوں کی جانب سے بھی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا جارہا ہے جب کہ پمز میں نومولود بچوں کی حفاظت، فائر سیفٹی، ہنگامی انخلا اور ایمرجنسی رسپانس کے نظام پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھے ہیں۔
دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے باقاعدہ کام شروع کردیا ہے، کمیٹی ارکان نے فائر بریگیڈ ہیڈکوارٹر کا دورہ کرکے ریسکیو آپریشن میں شامل عملے کے بیانات قلم بند کیے اور آگ لگنے سے ریسکیو ٹیموں کے پہنچنے تک کی ٹائم لائن، فائر بریگیڈ کی رسپانس اور کارروائی کے دوران پیش آنے والی رکاوٹوں کا جائزہ لیا۔