Blog
علی امین گنڈاپور احتجاج کی کال ناکام بنانا چاہتے ہیں:علیمہ خان اگرعمران خان رہا ہوگئے تو سیاسی صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے

ویب ڈیسک: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے الزام لگایا ہے کہ علی امین گنڈاپور جیسے لوگ 27 ستمبر کی کال ناکام بنانا چاہتے ہیں اور عوام کی توجہ اصل معاملے سے ہٹانے کے لیے مختلف قسم کی باتیں کر رہے ہیں، دراصل ان پر عمران خان کی رہائی کا خوف ہے۔علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بعض لوگ نہیں چاہتے کہ عمران خان جیل سے باہر آئیں اور انہیں خدشہ ہے کہ اگر عمران خان رہا ہوگئے تو سیاسی صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ جو لوگ پارٹی چیئرمین شپ کی بات کر رہے ہیں، وہ پہلے یہ چاہتے ہیں کہ عمران خان جیل میں ہی ختم ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ وہ روزانہ ٹی وی دیکھتی ہیں کہ آج کون بے نقاب ہوگا، جبکہ آنے والے دنوں میں مزید حقائق سامنے آئیں گے۔علیمہ خان نے عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے معاملے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح حکم دیا تھا کہ عمران خان کو دو دن کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہیں کیا گیا اور عدالت عظمیٰ کے حکم کو نظرانداز کیا گیا۔18 اگست 2026 کو سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے اور طبی معائنے کے لیے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ بنانے کی ہدایت کی تھی۔ بعد میں عمران خان کو طبی معائنے کے لیے پمز ہسپتال لے جایا گیا، جس پر پی ٹی آئی کی جانب سے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کے اعتراضات سامنے آئے۔علیمہ خان نے مزید کہا کہ ہائیکورٹ نے عمران خان کی قید تنہائی ختم کرنے کا حکم دیا، تاہم ان کے مطابق اس حکم پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ان کے پاس سپریم کورٹ سے آگے کوئی عدالت نہیں، اس لیے عدالتی احکامات پر عمل درآمد ہونا چاہیے، ایسا نہ کرنے کی وجہ صرف عمران خان کی رہائی کا خوف ہی ہو سکتا ہے۔علیمہ خان کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے سیاسی سرگرمیوں اور 27 ستمبر کی کال سے متعلق تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنے کا اعلان کر چکے ہیں