World

فلسطینیوں کیلئے سزائے موت کا اسرائیلی قانون انسانی حقوق کی تنظیموں نے قانون کو امتیازی قرار دے دیا

اسرائیلی پارلیمنٹ ’کنیسٹ‘ نے ’دہشت گردوں کے لیے سزائے موت‘ کے نام سے ایک انتہائی متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت ملٹری عدالتوں میں مہلک حملوں اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت سزا پانے والے افراد کو سزائے موت دی جائے گی۔
یہ قانون بنیادی طور پر مقبوضہ مغربی کنارے میں رہنے والے فلسطینیوں پر لاگو ہوگا اور اس کے تحت فیصلے ملٹری عدالتوں کے ذریعے ہوں گے، جہاں صرف فلسطینیوں کے خلاف مقدمات چلائے جاتے ہیں جبکہ اسرائیلی شہریوں کو اس کے دائرہ کار سے استثنا حاصل ہو گا۔
ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس قانون کو شدید امتیازی قرار دیا ہے۔
اس قانون کی باقاعدہ منظوری 30 مارچ 2026 کو دی گئی تھی، جہاں 62 میں سے 48 ووٹوں کے ذریعے یہ متنازع بل پاس ہوا۔
اس قانون کی حمایت وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور قومی سلامتی کے وزیر اتامار بن گویر سمیت دیگر دائیں بازو کے اتحادیوں نے کی۔
قانون کے مطابق سزائے موت پھانسی کے ذریعے دی جائے گی اور حتمی فیصلے کے بعد 90 دنوں کے اندر سزائے موت پر عمل درآمد کرنا ہوگا، تاہم عدالتی یا وزیراعظم کی ہدایت پر اسے زیادہ سے زیادہ 180 دن تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔
ملٹری عدالتوں کے پاس سزا کو عمر قید میں بدلنے کے لیے خاص حالات کا ثابت ہونا لازمی ہوگا ورنہ سزائے موت ہی بنیادی فیصلہ ہوگا۔
تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو اسرائیل میں سول سزائے موت پر ایک طویل عرصے سے عملی طور پر پابندی رہی ہے اور اس کی پوری تاریخ میں واحد سول سزائے موت 1962 میں نازی جنگی مجرم ایڈولف آئخمین کو دی گئی تھی۔ علاوہ ازیں، اسرائیلی جیلوں میں غیرقانونی طور پر قید کئی فلسطینیوں کی اموات کے ریکارڈ موجود ہیں۔
صیہونی منافقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسرائیلی فوجی ایلور ازاریہ کو چاقو حملے کے بعد زخمی اور بے بس فلسطینی کو گولی مارنے پر صرف 18 ماہ کی سزا سنائی گئی، جس نے اسرائیل میں عسکری سطح پر استثنا اور جوابدہی کے فقدان کی جانب عالمی توجہ مبذول کروائی تھی۔
نئے قانون کے تحت سزائے موت میں آسانی کے لیے تیز تر ٹرائل اور عدالتی معیار میں کمی کی گئی ہے۔ مئی 2026 میں پارلیمنٹ نے سات اکتوبر کے واقعات کے قیدیوں کے لیے بھی ایک علیحدہ کارروائی کا عمل منظور کیا تھا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم بین الاقوامی انسانی حقوق اور منصفانہ ٹرائل کی روح کے منافی ہے اور اس سے مقبوضہ علاقوں میں پہلے سے موجود تناؤ اور امتیازی سلوک میں مزید اضافہ ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *