World

نیپال سیلاب میں ہاتھیوں نے لوگوں کی جان بچائی؟ وائرل ویڈیوز کی اصل حقیقت جانیے

نیپال اور تبت کی سرحد پر تباہ کن سیلاب کے بعد سوشل میڈیا پر ہاتھیوں کی جانب سے لوگوں کو سیلابی ریلے سے بچانے کی جذباتی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔یہ مناظر حقیقی نہیں ہیں اور یہ فیک انفارمیشن ہے۔ایک وائرل ویڈیو میں تیز بہتے پانی کے درمیان پھنسے شخص کو دکھایا گیا جس کے بعد ایک ہاتھی پانی میں داخل ہو کر اس کے قریب پہنچتا ہے اور اسے اپنی پیٹھ پر بٹھا کر محفوظ مقام تک لے آتا ہے۔اسی طرح دوسری ویڈیو میں ایک ہاتھی کو سیلابی پانی سے بچوں کو نکال کر اونچی جگہ پر موجود افراد تک پہنچاتے دکھایا گیا۔ یہ ویڈیوز پاکستان، بھارت، آسٹریلیا، جنوبی کوریا سمیت مختلف ممالک میں شیئر کی گئیں اور متعدد صارفین نے انہیں نیپال کے حالیہ سیلاب سے جوڑ دیا۔تحقیقات کے مطابق پہلی ویڈیو 26 اگست کو آنے والے نیپال-تبت کے تباہ کن سیلاب سے کئی ہفتے پہلے ہی انٹرنیٹ پر موجود تھی اور یکم اگست کو فلپائن جبکہ بعد میں بھارت میں سیلاب کے دوران بھی اسے شیئر کیا گیا تھا۔ویڈیو کے بغور جائزے میں کئی ایسی خامیاں بھی سامنے آئیں جو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد میں دیکھی جاتی ہیں۔ ایک مقام پر پانی میں موجود شخص کے ہاتھ چٹان کے ساتھ ملتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جبکہ ہاتھی کی جلد کی ساخت بھی مختلف حصوں میں غیر فطری نظر آتی ہے۔میٹا کے اے آئی ڈیٹیکشن ٹول نے بھی ویڈیو میں ایسے ڈیجیٹل سگنیچرز کی نشاندہی کی جو اس کے اے آئی ٹولز سے بنائے جانے کا امکان ظاہر کرتے ہیں۔بچوں کو بچاتے ہاتھی کی دوسری وائرل ویڈیو میں بھی واضح بصری غلطیاں سامنے آئیں۔ ایک شخص پہلے اپنے دائیں ہاتھ سے اوپر موجود رسی پکڑے دکھائی دیتا ہے لیکن اگلے لمحے وہ دونوں ہاتھ جوڑ کر دعا کرتا نظر آتا ہے جبکہ رسی پکڑا ہوا ہاتھ بھی اپنی جگہ موجود رہتا ہے، یوں اس کے بظاہر 3 ہاتھ دکھائی دیتے ہیں۔اسی ویڈیو میں ایک دوسرے شخص کا رسی پکڑا ہوا ہاتھ اچانک غائب ہو کر دوبارہ نمودار ہوتا ہے جبکہ بعض افراد کے ہاتھ دوسرے لوگوں اور کپڑوں میں غیر فطری طور پر ضم ہوتے نظر آتے ہیں۔ہائیو موڈیریشن کے اے آئی ڈیٹیکشن ٹول نے بھی اس کلپ میں اے آئی سے تیار کردہ یا ڈیپ فیک مواد موجود ہونے کا امکان ظاہر کیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *