Blog
حنا جاوید قتل کیس ہائی پروفائل قرار تفتیش کی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹی قائم

پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے حنا جاوید قتل کیس کو ہائی پروفائل کیس قراردے دیا۔ محکمے نے مقدمے کی تفتیش کی نگرانی کیلئے سینئر پراسیکیوٹرز پر مشتمل خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے جو تفتیش کی نگرانی اور تفتیشی ٹیم کو قانونی معاونت فراہم کرے گی۔
پراسیکیوٹر جنرل پنجاب عرفان صادق تارڑنے راولپنڈی کے تھانہ سول لائنز میں درج حنا جاوید قتل کیس کو ’ہائی پروفائل‘ قرار دیا ہے۔
پراسیکیوشن جنرل پنجاب نے کیس کی مؤثر پیروی کے لیے ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر راولپنڈی میاں عمران رحیم کو ہدایات جاری کی ہیں جب کہ پراسیکیوشن اورتفتیش کی مؤثر نگرانی کیلئے سینئر پراسیکیوٹرز پر مشتمل خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔
محکمے کے مطابق یہ خصوصی کمیٹی حنا جاوید قتل کیس میں ہونے والی پیش رفت کا مسلسل جائزہ لے گی اور تفتیشی ٹیم کو درکار قانونی معاونت فراہم کرے گی۔
ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر راولپنڈی اور پولیس افسران کے درمیان ہونے والے ایک اہم اجلاس میں کیس کے تمام دستیاب ریکارڈز، شواہد اور اب تک کی تفتیشی پیش رفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
راولپنڈی کے تھانہ سول لائنز میں متوفیہ کے بھائی کی مدعیت میں درج مقدمے کے مطابق 45 سالہ حنا جاوید کی لاش 20 اگست کی صبح سسرال کے باتھ روم سے برآمد ہوئی تھی۔ ایف آئی آر میں درج لرزہ خیز تفصیلات کے مطابق مقتولہ کے دونوں ہاتھ پیچھے سے بندھے ہوئے تھے، منہ پر کپڑا باندھا گیا تھا جب کہ گلے میں بجلی کی تار لپٹی ہوئی تھی جسے فوارے کے ساتھ باندھا گیا تھا۔
حنا جاوید کے اہل خانہ نے اس قتل کے مقدمے میں مقتولہ کے شوہر، سُسر اور ایک گھریلو ملازم کو نامزد کر رکھا ہے۔
گزشتہ دنوں سامنے آنے والی میڈیکل اور پوسٹ مارٹم رپورٹ نے شدید تشدد اور قتل کے شبے کو مزید تقویت دی ہے۔
حنا جاوید کی موت کے تقریباً 12 گھنٹے بعد کیے گئے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق متوفیہ کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی پائی گئی جب کہ پسلیوں اور کولہے پر بھی زخموں کے واضح نشانات موجود تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ حنا جاوید کے دل کے گرد موجود جھلی بھی خون سے بھری ہوئی تھی۔
پولیس نے 20 اگست کو مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم ذیشان کو راولپنڈی کی مقامی عدالت میں پیش کیا تھا، جہاں عدالت نے تفتیش کے لیے دونوں ملزمان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔
بعد ازاں سائنسی شواہد اکٹھے کرنے کے لیے پولیس نے دونوں ملزمان کو لاہور منتقل کیا، جہاں تفتیش کو آگے بڑھانے کے لیے ان کے ڈی این اے اور پولی گرافک ٹیسٹ کروائے گئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فرانزک ٹیسٹ کی رپورٹس اور جائے وقوعہ سے ملنے والے دیگر شواہد کی روشنی میں تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔