Pakistan

پشاور میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، فتنۃ الخوارج کے 4 دہشت گرد ہلاک بڈھ بیر میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں

پشاور: کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) پشاور نے بڈھ بیر کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 4 مسلح دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ دیگر دہشت گرد تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا کے مطابق پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ خارجی کمانڈر طاہر عرف معاویہ، سکنہ شاکس ضلع خیبر، اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ علاقے میں عوام، صاحبِ ثروت افراد اور حکومتی رِٹ کو چیلنج کرنے اور دہشت گردی پھیلانے کی غرض سے گشت کر رہا تھا۔اطلاعات کی روشنی میں دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے سی ٹی ڈی پشاور نے خصوصی SWAT ٹیمیں تشکیل دے کر علاقے کے ممکنہ داخلی و خارجی راستوں پر ایمبوش لگائی۔سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی کے دوران دو موٹر سائیکلوں پر سوار مشتبہ افراد کو رکنے کے لیے کہا گیا، تاہم انہوں نے موٹر سائیکلیں موقع پر چھوڑ کر پولیس پارٹی پر فائرنگ شروع کردی۔ سی ٹی ڈی اہلکاروں نے اپنی حفاظت اور دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کی غرض سے جوابی فائرنگ کی۔فائرنگ کا سلسلہ تقریباً 20 سے 30 منٹ تک جاری رہا۔ فائرنگ رکنے کے بعد جائے وقوعہ اور ملحقہ علاقے میں سرچ آپریشن کیا گیا، جس کے دوران 4 دہشت گرد ہلاک پائے گئے، جبکہ دیگر دہشت گرد تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔کارروائی کے دوران ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے 3 ایس ایم جیز، ایک پستول، ہینڈ گرینیڈ، موبائل فون، 3 میگزین اور متعدد کارتوس برآمد کیے گئے۔ دہشت گردوں کے زیر استعمال دونوں موٹر سائیکلیں بھی پولیس نے قبضے میں لے لی ہیں۔سرچ آپریشن کے دوران ایک ہلاک دہشت گرد کی جیب سے افغان تذکرہ بھی برآمد ہوا، جو امان خان ولد علی خان، ساکن کنڑ، افغانستان کے نام سے جاری شدہ ہے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق تذکرے پر درج تصویر ہلاک دہشت گرد سے مماثلت رکھتی ہے، تاہم اس کی مزید تصدیق اور قانونی کارروائی جاری ہے۔جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے اور ضروری تکنیکی کارروائی کے لیے بم ڈسپوزل یونٹ (BDU) اور کرائم سین یونٹ کو بھی طلب کیا گیا، جنہوں نے موقع پر پہنچ کر کارروائی شروع کردی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *