Blog
طاقتور حلقے نئے صوبوں کے حامی معاملے پر تاحال کابینہ میں بحث نہ ہوسکی

اسلام آباد: باخبر ذرائع کے مطابق بااثر حلقے پاکستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل کے حق میں ہیں، جس کے تحت مزید صوبے یا انتظامی یونٹس قائم کیے جا سکتے ہیں، تاہم اس معاملے پر اب تک وفاقی کابینہ میں باضابطہ طور پر بحث نہیں ہوئی۔ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ نئے وفاقی یونٹس کے قیام کی بحث گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خاصی زور پکڑ چکی ہے، تاہم ابھی تک کوئی باضابطہ تجویز کابینہ کے سامنے غور یا منظوری کے لیے پیش نہیں کی گئی۔یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاقی حکومت کے اعلیٰ وزرا کی جانب سے ملک کے انتظامی نظام میں بنیادی نوعیت کی ازسرنو تشکیل کے مطالبات زیادہ واضح انداز میں سامنے آ رہے ہیں۔منصوبہ بندی و ترقی کے وزیر احسن اقبال نے حال ہی میں 12 سے 15 نئے صوبے بنانے کی تجویز دی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ پاکستان کے موجودہ چاروں صوبے حد سے زیادہ مرکزیت کا شکار ہو چکے ہیں اور تقریباً 26 کروڑ آبادی والے ملک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے موجودہ انتظامی ڈھانچہ اب کافی نہیں رہا۔احسن اقبال نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ اصولی طور پر چاروں صوبوں میں سے ہر ایک کو تین چھوٹے صوبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا ہے کہ ایسی کسی بھی انتظامی تشکیل نو کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہوگا۔انہوں نے تجویز دی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف، وزیر قانون کے ذریعے ایک کمیٹی تشکیل دیں جو انتظامی اصلاحات کا جائزہ لے اور اس معاملے پر قومی اور سیاسی سطح پر بحث کا آغاز کرے