Blog
دہشت گردی حکمرانوں کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، ایمل ولی دہشت گردی کے خلاف اشرافیہ کے دوغلے پن پر اعتراض ہے

ویب ڈیسک: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کسی ایک صوبے کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کے بقول حکمرانوں کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام بھی اتنے ہی محفوظ ہونے چاہئیں جتنے پنجاب اور اسلام آباد کے شہری ہیں۔ایمل ولی خان نے کہا کہ انہیں پنجاب کے محفوظ ہونے پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم اعتراض دہشت گردی کے خلاف اشرافیہ کے مبینہ دوغلے پن پر ہے۔اے این پی کے مرکزی صدر کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو دہشت گردی کی لپیٹ میں رکھنے والی پالیسیاں ان علاقوں کے عوام سے مشاورت کرکے نہیں بنائی گئیں۔انہوں نے کہا کہ آج جس خطرے سے پنجاب کو محفوظ رکھنے کی بات کی جا رہی ہے، خیبر پختونخوا کے عوام گزشتہ پانچ دہائیوں سے اسی دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ایمل ولی خان نے سوال اٹھایا کہ دہشت گردی کی نرسریاں کن پالیسیوں کے نتیجے میں قائم ہوئیں اور دہشت گرد تنظیموں کو کس نے پیدا کیا، پروان چڑھایا، تربیت دی اور اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ ان کے بقول پاکستان میں جاری دہشت گردی کی سرپرستی کس نے اور کن مقاصد کے لیے کی۔ایمل ولی خان نے کہا کہ جب ماضی میں ایسی پالیسیاں اختیار کی جا رہی تھیں تو عوامی نیشنل پارٹی کے اکابرین نے اس کے ممکنہ نتائج سے خبردار کیا تھا۔ان کے مطابق باچا خان اور ولی خان نے واضح کیا تھا کہ افغانستان میں جاری جنگ کی آگ کو اگر پاکستان سے ہوا دی گئی تو اس کے شعلے ایک دن پاکستان کے گھروں تک بھی پہنچ سکتے ہیں