Sports

بابر اعظم نے دوبارہ کپتانی سے قبل کیا شرط رکھی؟ بھارتی میڈیا کے مطابق بابر نے تینوں فارمیٹس کی کپتانی کی یقین دہانی مانگی۔

بھارتی نیوز ویب سائٹ ’این ڈی ٹی وی‘ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بابر اعظم نے واضح کیا تھا کہ اگر انہیں ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سونپی جاتی ہے تو مستقبل میں انہیں تینوں فارمیٹس یعنی ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کی مشترکہ کپتانی بھی دی جائے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کے لیے بابر اعظم سے رابطہ کیا، کیونکہ شان مسعود کی قیادت میں ٹیم کے مسلسل ناقص نتائج کے بعد سلیکٹرز نئے کپتان کی تلاش میں تھے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 5 جولائی کو ٹیسٹ کپتان کے اعلان سے پہلے دو سلیکٹرز نے بابر اعظم سے ملاقات کی تھی۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ ٹیسٹ کپتانی کے لیے بابر اعظم کے علاوہ کوئی موزوں آپشن موجود نہیں تھا، اس لیے ان سے رابطہ کیا گیا۔ بابر نے یہ ذمہ داری اس شرط پر قبول کی کہ مستقبل میں انہیں دیگر دو فارمیٹس کی کپتانی بھی دی جائے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بابر اعظم ہمیشہ سے پاکستان ٹیم کے تینوں فارمیٹس کے واحد کپتان بننا چاہتے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سلیکٹرز نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ اگر پاکستان ٹیم ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف پانچ ٹیسٹ میچوں میں اچھی کارکردگی دکھاتی ہے تو انہیں تمام فارمیٹس کی کپتانی دینے پر غور کیا جائے گا۔
اس وقت ون ڈے ٹیم کی قیادت فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کے پاس ہے۔ رپورٹ کے مطابق شاہین بھی کپتانی کے حوالے سے تلخ تجربہ رکھتے ہیں۔ شاہین کو 2024 میں صرف ایک ٹی20 سیریز کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف شکست کی بنیاد پر ٹی20 ٹیم کی قیادت سے ہٹا دیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے شان مسعود کی کارکردگی کا تقریباً دو ماہ تک جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا۔ شان مسعود نے دسمبر 2023 سے اب تک 16 ٹیسٹ میچوں میں ٹیم کی قیادت کی، جن میں سے پاکستان کو 12 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ سلیکٹرز نے ابتدا میں سلمان آغا کو ٹیسٹ کپتانی کی پیشکش کی تھی، تاہم انہوں نے یہ ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹ میں کہا گیا کہ سلمان آغا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *